صاحب نسبت ہونے کا مطلب:
Question
ہم بزرگوں سے اور بعض علما سے سنتے ہیں کہ فلاں بزرگ یا عالم یا عابد صاحب نسبت ہے، تو صاحب نسبت ہونے کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ بعض لوگ جو سمجھتے ہیں کہ نسبت خاص خاص کیفیات کو کہتے ہیں، مثلاً: مجاہدہ و ریاضت وغیرہ یہ صحیح نہیں ، اسی طرح بعض لوگ نسبت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ کسی شیخ سے بیعت ہونا اور اس کے ساتھ تعلق ہونا یہ تعریف بھی صحیح نہیں۔ نسبت کی حقیقت انفاسِ عیسی میں مرقوم ہے ملاحظہ ہو:
نسبت کے لغوی معنی ہے لگاؤ اور تعلق، اور اصطلاحی معنی ہے بندے کا حق تعالی شانہ سے خاص تعلق (اخلاص کے ساتھ دائمی اطاعت اور غالب ذکر)، اور حق تعالی کا بندہ کے ساتھ خاص قسم کا تعلق یعنی قبول و رضا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نسبت ایک خاص قسم و نوع کے تعلق کا نام ہے، جس قدر تعلق قوی ہوگا اسی قدر نسبت بھی قوی ہو گی، عمومی تعلق تو ہر مسلمان کو اللہ جل شانہ سے ہے؛ لیکن یہ نسبت خاص قسم کی محبت اور خصوصی تعلق کا ثمرہ ہے۔ نسبت و احسان میں مذکور ہے:
حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری رحمه الله اپنے ایک ملفوظ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی سے تعلقِ خاص کو نسبت کہتے ہیں۔ (نسبت و احسان، ص
۲٦
)۔
نیز مرقوم ہے: شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ نسبت ایک کیفیت کا نام ہے جو کہ عارف کو حاصل ہوتی ہے، اس سے عارف کو علاقہ قویہ اللہ تعالی کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے، اس سے عجیب و غریب آثار پیدا ہوتے ہیں، حضورِ دائمی، ذوق و شوق، تقوی و طہارت، ظاہری و باطنی عاجزی و تواضع کا ملکہ پیدا ہو جانا اور اللہ تعالی کے حکموں کا فرمانبردار ہو جانا، حاصل ہو جاتا ہے، اور نفس ایسا فنا ہو جاتا ہے کہ اپنے آپ کو ایسا سمجھنے لگتا ہے جیسے مردہ بدستِ غسال، اور اِسی کو صوفیہ کی اصطلاح میں نسبت کہا جاتا ہے۔ (نسبت و احسان، ص
۲۷
)۔
التکشف عن مہمات التصوف میں ہے:
اشتغال بالذکر سے قلب میں ایک کیفیتِ غریبہ لذیذہ پیدا ہو جاتی ہے اور مواظبت سے اس میں رسوخ ہو جاتا ہے، صوفیہ کی اصطلاح میں اس کو نسبت کہتے ہیں۔
القول الجمیل میں ساتویں فصل کے تحت مرقوم ہے:
مرجع الطرق كلها إلى تحصيل هيئات نفسانية تسمي عندهم بالنسبة لأنها انتساب وارتباط بالله عز وجل وبالسكينة والنور وحقيقتها كيفية حالة في النفس الناطقة من باب التشبيه بالملائكة أو التطلع إلى الجبروت، وتفصيله أن العبد إذا داوم على الطاعات والطهارات والأذكار حصل له صفة قائمة بالنفس الناطقة وملكة راسخة لهذا التوجه.
ترجمہ: تمام مشائخ کے طریقوں کا مرجع یعنی مقصد، منتہی اور حاصل، ایک کیفیت کی تحصیل ہے، جس کو صوفیہ نسبت کہتے ہیں، جس کے ذریعے بندہ کو اللہ تعالی کے ساتھ نسبت اور ارتباط حاصل ہوتا ہے اِسی نسبت کا نام سکینہ ہے اور اِسی کو نور بھی کہا جاتا ہے اور نسبت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کیفیت کا نام ہے جو نفسِ ناطقہ میں حلول کر جاتی ہے، جس کے سبب سے نفس کے اندر ایک ملکی شان پیدا ہو جاتی ہے اور عالمِ بالا سے باتیں اخذ کرنے کا ایک ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان جب طاعات، طہارت و اذکار وغیرہ پر مداومت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے نفس میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرنے کا ایک ملکہ راسخہ پیدا ہو جاتا ہے، اسی کا نام نسبت ہے۔ (ماخوذ از نسبت و احسان)۔
عرفانِ محبت شرح فیضان محبت میں ہے:
(جب یہ خاص قسم کا تعلق حق جل شانہ و بندے کے درمیان ہو جاتا ہے تو) اس بندے کی خلوت و جلوت یادِ الہی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے، اور اس کی ایک گھڑی بھی اللہ سے غفلت میں نہیں گزرتی، اور وہ زندگی کی تمام خواہشات اور آرزوؤں کو اللہ تعالی کے حکم پر قربان کر ڈالتا ہے، اور اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالی کی یاد رچ بس جاتی ہے۔ (جلد اول، ص
۵٤
)۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو گی تو وہ جس حال میں بھی ہوگا، جو بھی کام کرے گا، اس وقت حق سبحانہ و تقدس کا جو حکم ہوگا اس کو یاد رکھے گا، اور جس کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس کو صاحب نسبت کہا جاتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.