شب دو شب میں قرآنِ کریم ختم کرنے کا حکم:
Question
کیا رمضان المبارک کی ایک رات یا دو راتوں میں قرآن مجید ختم کرنا درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
رمضان المبارک میں ایک رات یا دو راتوں میں ختم قرآن کرنا بوجہ ان عوارض کے جو پیش آتے ہیں اور تقریباً لازم ہیں، مکروہ اور قابل ترک ہے: اولاً: عام طور پر لوگ ریا اور دکھلاوے کے لیے پڑھتے ہیں۔ ثانیاً: نماز کی طوالت کی وجہ سے نماز سستی اور کاہلی سے پڑھتے ہیں، ثالثاً: حفاظ انتہائی تیزی سے پڑھتے ہیں کہ ترتیل و تجوید کا خیال نہیں کرتے، رابعاً: بعض اوقات عوام الناس سے جبراً چندہ وصول کیا جاتا ہے جن میں غریب اور مفلس بھی ہوتے ہیں جو نہ چاہتے ہوے بھی بدنامی کے خوف سے چندہ دے دیتے ہیں، لہذا اگر پڑھنے والے اور سننے والے سب کے سب مخلص ہوں اور بہ نیت عبادت شوق سے پڑھیں اور سنیں اور ایسا صاف پڑھا جائے کہ تفقہ اور تدبر ممکن ہو اور مذکورہ بالا عوارض بھی نہ پائے جاتے ہوں تو ایک رات یا دو راتوں میں ختم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ملاحظہ ہو؛ الفتاوی الحدیثیہ میں مرقوم ہے:
ولمنابذة ذلك أيضاً لما هوَ مَعْرُوف من أحْوَال السّلف رضوَان الله عَلَيهم، فَإِن أكثَرهم كانُوا يختمون الْقُرْآن فِي كل سبع لَيال مرّة، وَكانَ كثيرُونَ يختمون فِيكل يوْم وَلَيلَة ختمة، وَختم جمَاعَة فِي كل يوْم وَلَيلَة ختمتين، وَآخَرُونَ فِي كلّ يوْم وَلَيلَة ثَلَاث ختمات، وَختم بَعضهم فِي الْيوْم وَاللَّيلَة ثَمَان ختمات أرْبعا بِاللَّيلِ وأربعاً بِالنَّهارِ. وَقَالَ النَّوَوِي بعد ذكره لذَلِك: وَمِمَّنْ ختم أربع ختمات فِي اللَّيل وأربعاً فِي النهار السَّيد الْجَلِيل ابْن الْكاتِب الصُّوفِي رضي الله عنه وَهذَا أكثر مَا بلغنَا فِي الْيوْم وَاللَّيل، وروي السَّيد الْجَلِيل أحْمد الدَّوْرَقِي بِإِسْنَادِه عَن مَنْصُور بن زَاذَان بن عباد من التَّابِعين رضي الله عنه م، أنه كانَ يخْتم الْقُرْآن فِيمَا بَين الظّهر وَالْعصر ويختمه أيضا فِيمَا بَين الْمغرب وَالْعشَاء. وروي ابْن أبي دَاوُد بِإِسْنَادِه الصَّحِيح: أن مُجَاهدًا رحمه الله كانَ يخْتم الْقُرْآن فِي رَمَضَان فِيمَا بَين الْمغرب وَالْعشَاء. وَأما الَّذين ختموا الْقُرْآن فِي رَكعَة فَلَا يحصونَ لكثرتهم فَمنهمْ عُثْمَان بن عَفَّان رضي الله عنه، وَتَمِيم الدَّارِيّ، وَسَعِيد بن جُبَير رضي الله عنه مَا. وَالْمُخْتَار أن ذَلِك يخْتَلف باخْتلَاف الْأشْخَاص فَمن كانَ لا يظْهر لَه دَقِيق الْمعَانِي ولطائف المعارف إِلَّا بِالْقدرِ الْيسِير اقْتصر عَلَيه، وكذَا من كانَ مَشْغُولًا بِمَا هوَ أهمّ من الاستكثار، كنشر الْعلم وَمن لَيسَ كذَلِك فليكثر مَا أمكنه من غير خُرُوج إلى حد الْملَل والهذْرمَة، وَقد كره جمَاعَة من الْمُتَقَدِّمين الْخَتْم فِي كلّ لَيلَة وَيوْم للْخَبَر الصَّحِيح (لَا يفقه من قَرَأ الْقُرْآن فِي أقل من ثَلَاث). هذَا حَاصِل كلَام النَّوَوِيّ رحمه الله، وَهوَ يرد مَا يوهمه مَا ذكر من تِلْك الْحَوَاشِي من ذمّ الْإِكثَار والإفراط من الْقِرَائَة مُطلقًا، وَلَيسَ كمَا زعم إِن أرَادَ ذَلِك، وَإِنَّمَا الذمّ خَاص بِمن يحصل لَه ملل أو عدم تدبر أو هذْرمة بِخِلَاف من لا يحصل لَه شَيْء من ذَلِك، وَلَا هوَ مَشْغُول بالأهم، فَينْبَغِي لَه أن يستفرغ وُسْعه ويبذل جهده فِي الْإِكثَار من قِرَائَة الْقُرْآن فَإِنَّه ُ أفضل من سَائِر الْأذْكار مَا عدا الَّتِي لَها وَقت أو حَال مَخْصُوص. وَقد كانَ الشَّافِعِي رضي الله عنه مَعَ مَا هوَ عَلَيه من الِاشْتِغَال بِتِلْك الْعُلُوم الباهرة والمعالي الظَّاهرَة والكمالات المتكاثرة يخْتم فِي غير رَمَضَان فِي كلّ يوْم وَلَيلَة ختمة، وَفِي رَمَضَان ختمة فِي اللَّيل وختمة فِي النَّهار، الخ
. (الفتاوى الحديثية: ۱/٤۲، ط: دار الفكر).
فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:
أفضل القراءة أن يتدبر في معناه حتى قيل: يكره أن يختم القرآن في يوم واحد، ولا يختم في أقل من ثلاثة أيام تعظيماً له، ويقرأ بقراءة مجمع عليها، كذا في القنية. وندب لحافظ القرآن أن يختم في كل أربعين يوماً في كل يوم حزب وثلثا حزب أو أقل، كذا في التبيين في مسائل شتي. من ختم القرآن في السنة مرة لا يكون هاجراً، كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۷، الباب الرابع في الصلاة).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: تین شخصوں کی جماعت کر کے ایک کلام اللہ ایک ہی شب میں ختم کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: اگر یہ سب شوقین ہیں اور دل لگا کر سنیں تو جائز ہے، اگر شوق نہیں مگر اظہار فخر کے لئے ایسا کریں تو ناجائز ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۷
/
۳۳٤
، باب التراویح، جامعہ فاروقیہ)۔
امداد الفتاوی میں ہے:
ظاہر حدیث سے تو ممانعت معلوم ہوتی ہے کہ تین روز سے کم میں قرآن ختم کیا جائے۔
عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله ﷺ قال: لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث. (رواه الترمذي وأبو داود والدارمي، ومشكاة المصابيح: ۱/٦۷٤).
اسی بنا پر بعض علما نے اس شبینہ کو مکروہ فرمایا ہے، لیکن عادت سلف کی ختم قرآن میں مختلف منقول ہوئی ہے حتی کہ بعض بزرگوں نے ایک شب و روز میں تین ختم کیے اور بعض نے آٹھ ختم کیے اس لیے مطلقاً تین روز سے کم میں ختم کرنے کو مکروہ کہنا نا مناسب ہے، بلکہ اقرب الی التحقیق یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر شبینہ میں (ایک یا دو راتوں میں پورا ) قرآن صاف صاف پڑھا جاوے اور حفاظ کو ریا مقصود نہ ہو اور جماعت کسل مند نہ ہو اور حاجت سے زیادہ روشنی میں تکلف نہ کریں اور تراویح میں پڑھیں اور قصد حصول ثواب ہو تو یہ جائز ہے، [یہ حکم ہے فعل کا فی نفسہٖ لیکن ہمارے زمانے میں مفاسد عادتاً مثل لازم کے ہو گئے ہیں لہذا منع ہی کرنا امر ہے]۔ اور حدیث مذکور کے معارض نہیں کیوں کہ حدیث میں ممانعت عدم تفقہ ہے اور جب ایسا صاف پڑھا جائے کہ تفقہ اور تدبر ممکن ہو تو ممنوع نہیں۔ چنانچہ عادت بعض سلف کی تحریر ہو چکی، یہ جرأت نہیں ہو سکتی کہ ان کے فعل کو مکروہ کہیں چنانچہ حدیث مذکور کے حاشیہ پر مرقوم ہے:
ظاهره المنع من ختم القرآن في أقل من هذه المدة ولكنهم قالوا قد اختلف عادات السلف في مدة الختم فمنهم من كان يختم في كل شهرين ختمة وآخرون في كل شهر وفي كل عشر وفي أسبوع إلى أربع وكثيرون في ثلاث وكثيرون في يوم وليلة وجماعة ثلاث ختمات في يوم وليلة وختم بعض ثماني ختمات في يوم وليلة والمختار أنه يكره التأخير في الختمة أكثر من أربعين يوماً وكذا التعجيل من ثلاثة أيام والأولي أن يختم في الأسبوع والحق أن تختلف باختلاف الأشخاص. [روي الطحاوي بسنده عن عبد الله بن زبير رضي الله عنه أنه قرأ القرآن في ركعة وعن سعيد بن جبير رحمه الله أنه قرأ القرآن في ركعة في البيت. (۱/۳٤۸).]
(امداد الفتاوی:
۱
/
۳۸۳
)۔ مزید ملاحظہ ہو: (کتاب الفتاوی:
۲
/
٤۰۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.