رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے حوضِ کوثر پلانے کی دعا کا حکم:
Question
عام طور پر بیان میں یا دعا میں یہ بات سننے میں آتی ہے "اے اللہ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دستِ مبارک سے جامِ کوثر نصیب فرما۔ تو کیا کسی روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ نبی ﷺ اپنے دستِ مبارک سے امت کو براہِ راست پلائیں گے؟ بینوا بالدلیل۔
Answer
بصورتِ مسئولہ نبی پاک ﷺ کے حوضِ کوثر سے جامِ کوثر پلانے کی تصریح متعدد روایات میں موجود ہے جس کی تفصیل کتبِ حدیث کی ورق گردانی کرنے والے پر مخفی نہیں ہے، البتہ اس بات کی تصریح کہ آں حضور ﷺ خود اپنے دستِ مبارک سے ہر امتی کو پلائیں گے کہیں دستیاب نہیں ہوئی۔
بظاہر یہ دعائیہ جملہ
"بني الأمير المدينة"
کے قبیل سے ہے یعنی امیر کے حکم سے اس کے خدام شہر کی تعمیر کرتے ہیں، اسی طرح نبی پاک ﷺ کے حکم سے آپ کے خدام امت کو حوضِ کوثر پلائیں گے، ممکن ہے کہ اخص الخواص کو آنحضرت ﷺ خود اپنے دستِ مبارک سے پلائیں، لیکن اس کی تصریح نہیں ملی۔
حوضِ کوثر کی احادیث سے متعلق امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں:
قال القاضي عياض رحمه الله: أحاديث الحوض صحيحة والإيمان به فرض والتصديق به من الإيمان وهو على ظاهره عند أهل السنة والجماعة لا يتأول ولا يختلف فيه قال القاضي: وحديثه متواتر النقل رواه خلائق من الصحابة. (شرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۲٤۹، باب اثبات حوض نبينا ﷺ وصفاته).
قال القرطبي: أحاديث الحوض متواترة. (فيض القدير: ۳/۵۲۸).
وسقاهم ربهم
کے تحت علماء نے بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح پلانے کو بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو:
البحر المديد
میں مرقوم ہے:
أضيف إليه تعالى للتشريف والتخصيص، وقيل: إن الملائكة يعرضون عليهم الشراب، فيأبون قبوله منهم ويقولون: قد طال أخذنا من الوسائط، فإذا هم بكاسات تلاقي أفواههم بغير أكف من غيب إلى عبد. (البحر المديد: ۸/۳۰۸، ط: دار الكتب العلمية). وكذا في تفسير النسفي: ۲/۳۲۰).
اور تفسیر سمرقندی میں ہے:
وسقاهم ربهم شراباً طهوراً يعني الذي سقاهم خدمهم. (بحر العلوم: ۳/ ۵۰٦، ط: دار الفكر).
وقال في المظهري: قال الشيخ الأجل يعقوب الكرخي: إن السابقين المقربين يعطون الكاسات من تحت العرش بلا واسطة والمقتصدين يعني الأبرار يعطيهم الملائكة وغيرهم من أهل الجنة
قلت: وهذه الآيات اخبار عن شان الأبرار فلعلهم يعطون الكاسات تارة بتوسط الولدان وتارة بتوسط الملائكة وتارة بلا واسطة وأما المقربون فلعلهم يعطون بلا واسطة غالباً. (التفسير المظهري: ۱۰/۱٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.