نمازِ فجر گھر پر پڑھنے کا معمول بنانے کا حکم:
Question
کیا میں فجر کی نماز مسجد میں نہ پڑھنے کی وجہ سے گنہگار ہوں ۔ میں اپنا کام شروع کرتا ہوں دس بجے سے آٹھ بجے تک، میں بہت تھک جاتا ہوں اور فجر کی نماز کے لیے مسجد نہیں جاتا کیونکہ میں بہت سست ہوں اور اپنی نیند میں کمی نہیں کرنا چاہتا تاکہ کام میں کمی واقع نہ ہو، میرا سوال یہ ہے کہ میں گنہگار ہوں؟ کیا مجھے وہی مسجد والا ثواب ملے گا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بلا عذرِ شرعی مسجد کی جماعت کو ترک کرنا بہت بڑے ثواب سے محرومی کی بات ہے، سستی اور تکان کوئی عذر نہیں جس کی وجہ سے مسجد کی جماعت ترک کی جائے، لہٰذا توبہ اور استغفار کرنے کے بعد اب سے روزانہ فجر کی نماز مسجد میں جماعت سے پڑھنے کا اہتمام کریں ۔ نماز باجماعت کی فضیلت ملاحظہ ہو :
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة. (صحيح البخاري: ۱/۱۳۱، ٦٤۵).
باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
اور مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے کے اور بھی فضائل احادیث میں مذکور ہے، مثلاً: سات آدمی عرش کے سایہ میں ہوں گے، ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا دل مسجد کے ساتھ اٹکا ہوا ہو، جب نکلتے ہیں تو واپس آنے کا سوچتے ہیں، اور ان دو صحابہ کا واقعہ تو مشہور ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد سخت اندھیرے میں ان کی لاٹھیوں سے روشنی نکلتی تھی، اور جو صبح و شام مسجد میں جاتا ہو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں مہمانی کا انتظام فرمائیں گے، اور جب صرف نماز کی نیت سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، پھر جب نماز پڑھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا مانگتے ہیں، یہ سب فضائل کتبِ احادیث میں مذکور ہیں ۔ مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد دوم، ص ۲۹۷، ط: بمبئی) ۔
جان بوجھ کر بلا عذر نماز باجماعت ترک کرنے کی وعید ملاحظہ ہو :
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رسول الله ﷺ قال: والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلاً فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقاً سميناً أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء. (صحيح البخاري: ۹/۸۲/۷۲۲٤).
اس حدیث میں نبی پاک ﷺ نے بلا عذر گھروں میں نماز پڑھنے والوں کے گھروں کے جلانے کا ارادہ فرمایا، یہ بڑی خطرناک وعید ہے ۔
در مختار میں ہے:
و الجماعة سنة مؤكدة للرجال، قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب وقيل: واجبة وعليه العامة، فتسن أو تجب، ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة، على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۵۵۲، سعيد).
وفي البحر: وصرح في المحيط: بأنه لا يرخص لا حد في تركها بغير عذر حتى لو تركها أهل مصر يؤمرون بها فإن ائتمروا وإلا يحل مقاتلتهم. (البحر الرائق: ۱/۳٦۵، دار المعرفة، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸۲).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
بلا عذر شرعی مسجد کی نماز چھوڑ کر گھر پر ہی پڑھنا بہت بڑی محرومی ہے اور اسلام کے بڑے شعار کو ترک کرنا ہے حدیث شریف میں اس پر سخت وعید ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٤۰۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
امداد الاحکام میں مذکور ہے: جماعت سے نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ قریب واجب ہے لہٰذا بلا عذر اس کا چھوڑنا گناہ ہے اور ترکِ جماعت کا عادی ہونا فسق ہے، ایسا شخص شرعاً فاسق ہے ۔ (امداد الاحکام: ۱/۵۲٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.