قبرستان یا مسجد میں پھل دار درخت ہو تو پھل کھانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #341Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

قبرستان یا مسجد میں پھل کا درخت لگا ہوا ہے اس کے پھل کھانا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

اگر وہ مسجد یا قبرستان وقف ہیں تو کسی شخص کو ان پھلوں کو کا ٹ کر اپنے کام میں لا نے کی اجازت نہیں ہوگی نہ پھل کی اجازت نہ اس کی قیمت کی بلکہ مصارفِ وقف پر صرف کرنا واجب ہے ۔ ہاں حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسجد یا قبرستان کے پھل دار درخت نمازیوں یا عام لوگوں کے لیے لگائے گئے ہوں تو ان سے لینا جائز ہے ۔
بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما حكم الوقف الجائز فحكمه انه يزول الموقوف عن ملك الواقف ولا يدخل في ملك الموقوف عليه لكنه ينتفع بغلته بالتصدق عليه لأن الوقف حبس الأصل وتصدق بالفرع والحبس لا يوجب ملك المحبوس والواجب أن يبدأ بصرف الفرع إلى مصالح الوقف من عمارته وإصلاح ماله من بنائه وسائر مؤناته للتي لا بدّ منها سواء شرط ذلك الواقف أو لم يشترط لأن الوقف صدقة جارية في سبيل الله تعالى ولا تجري إلا بهذا الطريق." (بدائع الصنائع: ٦/۲۲۰، ۲۲۱)

اگر قبرستان اور مسجد کی صرف زمیں وقف کی ہو درخت وغیرہ نہ ہو تو بھی مالک کی اجازت کے بغیر ان کی کوئی چیز استعمال کرنا درست نہیں ہوگا ۔ احسن الفتاوی میں ہے:
" اگر واقف نے صرف زمیں وقف کی ہے درخت و پھل وقف نہیں کیے تو وہ اس کی ملک میں ہے ۔ اس کی اجازت کے بغیر ان کی کوئی چیز استعمال کرنا جائز نہیں مگر اس کو مجبور کیا جائے گا کہ ان درختوں اور (پھلوں) کو اکھاڑ کر قبرستان کی زمیں فارغ کر دے اور اگر زمیں کے ساتھ درخت وغیرہ بھی وقف کیے ہیں تو جو وقف کا مصرف ہے وہی ان درختوں کا بھی ۔" (احسن الفتاوی: ٦/٤۱۸)
.

میں ہے:
رجل جعل أرضا مقبرة وفيها أشجار قال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى وقف الأشجار لا يصح فتكون الأشجار للواقف ولو رثته إن مات." (فتاوى قاضيخان: ۳/۳۱۳)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
" اگر قبرستان وقف ہے تو اس پھل کو فروخت کر کے قبرستان کی ضروریات میں قیمت صرف کریں ۔ ؎ خود استعمال نہ کرے نہ پھل نہ اُس کی قیمت ۔" (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۸۹)
مسجد کے متعلق فتاوی محمودیہ میں ہے:
"مسجد کی موقوفہ زمیں اگر کا شت کے لیے یا کرایہ پر دی جا سکتی ہے تو کا شت کر کے یا کرایہ پر دے کر اس کی آمدنی مسجد کی ضروریات میں صرف کی جائے ورنہ اس میں درخت لگا کر پھل فروخت کر کے مسجد میں صرف کریں ۔" واللہ اعلم (فتاوی محمودیہ: ۱۵/۱۷٦)
فتاوی رشیدیہ میں ہے: مسجد کے پھل دار درختوں کا مسئلہ:
سوال: اگر مسجد میں امرود کا درخت ہو اس کو نمازی استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: جو درخت کسی نے نمازیوں کے کھانے کے لیے لگایا ہو اس میں سے کھانا درست ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ ۵۷۸) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.