﴿هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ﴾ سے فعل بد پر استدلال کرنے کا حکم:
Question
آج کل بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ (۱) لوط علیہ السلام کے زمانہ میں لواطت حرام تھی اس لیے کہ وہ زبردستی کرتے تھے، تو اگر رضامندی ہو تو گنجائش ہے، نعوذ باللہ ۔ (۲) ہؤلاء بناتي ہن أطہر لکم، کے بارے میں کہتے ہیں کہ لڑکیوں سے نکاح کرنا زیادہ پاکیزگی کی بات ہے بہ نسبت لواطت کے اور لواطت کی بھی گنجائش ہے، نعوذ باللہ ۔ اس شیطانی سوال کا کیا جواب ہے؟
Answer
بظاہر قوم لوط رضامندی سے لواطت کرتے تھے اس لیے کہ قرآنِ کریم میں ان لوگوں کے بارے میں اتیان کے الفاظ آئے اور قرآن اور احادیث میں اتیان کا لفظ رضامندی کے لیے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ قومِ لوط کے بارے میں قرآنِ کریم میں یہ آیت مذکور ہے: وتأتون في نادیکم المنکر، تو یہاں ظاہر سی بات ہے کہ وہ لوگ منکرات رضامندی سے کرتے ہیں، اتیان رضامندی سے کام کرنے کو کہتے ہیں، زبردستی اجبار یا اکراہ کہتے ہیں، اس عمل بد میں قومِ لوط کے لیے اکراہ کا لفظ کسی جگہ مذکور نہیں، اور اگر بالفرض اس زمانہ میں زبردستی سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رضامندی ہو تو پھر جائز ہے، جیسا کہ کسی ملک میں سود دینا یا انشورنس کرانا حکومت نے لازم اور ضروری قرار دیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں
اور ہؤلاء بناتی کا مطلب بنات قومی ہے یعنی بنات القوم سے نکاح کرو، اور ہن أطہر لکم کے دو معانی ہیں: ۱ ۔ یا اسم تفضیل فعل کے معنی میں ہے جیسے اصحاب الجنۃ خیر مقاماً و احسن مقیلاً، جنتیوں کی جگہ بہتر ہے اور اس کے مقابلہ میں جہنم بدتر ہے یا جیسے اللہ اعلی و اجل میں، اللہ تعالی بہت عالی اور جلیل ہے، اس میں یہ معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالی اجل اکبر ہے اور اصنام بھی کبیر ہیں ۔
۲ ۔ یا اطہر کے معنی انظف ہے یعنی عورتوں کا محل جماع بہت صاف اور مردوں کا مقعد گندگی اور غلاظت اور پاخانہ کی جگہ ہے تو تم کیوں محل غلاظت کو محل لذت سمجھتے ہو ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.