کتب خانہ کے قدیم نسخے فروخت کر کے ضروری کتابیں خریدنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #375Urdu
Vol. 9باب… )۹( وقف سے متعلق متفرق مسائل:

Question

ایک مدرسہ کے کتب خانہ میں درسی اور غیر درسی کتابوں کے متعدد نسخے موجود ہیں، جن کی مدرسہ کو نہ فی الحال ضرورت ہے اور نہ آئندہ ضرورت کا امکان ہے، تو کیا ایسے قدیم نسخے فروخت کر کے ان کے عوض دیگر ضروری کتب کا خریدنا جائز ہو گا یا نہیں؟ بینوا بالدلیل ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مدرسہ کے عمومی کتب خانہ میں آمدہ کتب تین قسم کی ہوتی ہیں: ۱ ۔ مدرسہ کی خریدی ہوئی کتب جو وقف نہ ہوں ۔ ۲ ۔ مدرسہ کی خریدی ہوئی کتب جو وقف کر دی گئی ہوں ۔ ۳ ۔ باہر سے آمدہ کتب جو عام طور پر وقف ہوتی ہیں ۔
مذکورہ بالا تینوں صورتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر مدرسہ کو اِن کتب کی فی الحال یا آئندہ ضرورت نہیں ہے تو ان کو مناسب قیمت میں فروخت کر کے ان کے عوض ضروری کتابیں خریدنا جائز اور درست ہے ۔

قال في قانون العدل والإنصاف: إنما يجوز بيع الوقف بثمنه ما يكون وقفاً بدلاً عنه إذا شرط الواقف استبداله

أو سوغت الضرورة والمصلحة للقاضي بيعه والاستبدال به. (قانون العدل والإنصاف، ص ٤۲، مؤسسة الريان).
وفيه أيضاً: النقود المتحصلة من بيع الوقف الجائز بيعه حكماً للاستبدال به تكون وقفاً بمنزلة العين الأصلية فلا يملكها الواقف ولا تصرف علي المستحقين بل يشتري بها بدل. (قانون العدل والإنصاف، ص ۱۰۳).

البحر الرائق میں مذکور ہے:

والحاصل أن الموقوف عليه السكني إذا امتنع من العمارة ولم يوجد مستأجر باعها القاضي واشتري بثمنها ما يكون وقفاً. (البحر الرائق: ۵/۲۱۹، كوئته).
وقال العلامة الشامي في حاشية البحر الرائق: وقد روي عن محمد رحمه الله إذا ضعفت الأرض الموقوفة عن الاستبدال والقيم يجد بثمنها أخرى أكثر ريعاً كان له أن يبيعها ويشتري بثمنها ما هو أكثر ريعاً. (منحة الخالق: ۵/۲۱۹، كوئته).
وفي البحر أيضاً: فعلي هذا يباع النقض في موضعين عند تعذر عوده وعند خوف هلاكه والمراد ما انهدم من الوقف فلو انهدم الوقف كله، فقد سئل عنه قارئ الهداية بقوله سئل عن وقف تهدم ولم يكن له شيء يعمر منه ولا أمكن إجارته ولا تعميره هل تباع أنقاضه من حجر وطوب وخشب؟ أجاب إن كان الأمر كذلك صح بيعه بأمر الحاكم ويشتري بثمنه وقف مكانه. (البحر الرائق: ۵/۲۲۰، كوئته).

جدید فقہی مباحث میں مرقوم ہے:
شمس الائمہ سرخسی رحمه الله نے جواز کا فتوی دیا ہے نیز بعضوں نے مثلاً امام ظہیر الدین رحمه الله نے جواز کا فتوی دے کر رجوع فرما لیا ہے، مشائخ میں سے بعض لوگ جواز کا فتوی اس وقت دیتے ہیں جب کہ شیٔ موقوفہ سے انتفاع بالکل ختم ہو جائے، بعض کے نزدیک منفعت من کل الوجوہ معطل ہو جائے یا منفعت کم ہو جائے، بہر دو نوع استبدال جائز ہے، حضرت امام محمد رحمه الله سے روایات دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ منفعت کی کمی کی صورت میں متولی کو اس بیع کا اختیار ہے، لیکن بتمامہا تعطل کی صورت میں قاضی کو اختیار ہے، صاحب قنیہ نے بھی جواز ہی کا فتوی دیا ہے بہر کیف صورتِ مسئولہ میں ازدیادِ منفعت کی خاطر اوقاف کو فروخت کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ائمہ کی عبارات مؤید ہیں ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۲/۳۰۵، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ) ۔
مساجد و مدارس کی شخصی ملکیت سے متعلق تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٦٦۰، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.