آثارِ سجود سے کیا مراد ہے:
Question
آثارِ سجود سے کیا مراد ہے؟ بعض لوگوں کی پیشانی پر نشان لگا رہتا ہے کیا یہ مراد ہے یا کچھ اور ؟
Answer
آثارِ سجود کے چند معانی ہیں:
(۱) نماز کی وجہ سے انسان کے اندر تقوی اور اچھائی کا پیدا ہونا اس کی وجہ سے دنیا ہی میں چہرہ کا منور ہونا ۔
(۲) شب بیداری کی وجہ سے دن میں چہروں پر پیلا پن اور بیداری کے اثرات مراد ہے ۔
(۳) نماز ی کے چہرے قیامت کے دن منور ہوں گے ۔
(٤) وضو کے اثرات اعضاء وضو پر ۔
پیشانی پر نشانات نظر آتے ہیں یہ اگر عمداً کسی نے کیا ہے تو برا ہے، اور اس کو تقوی کی علامت قرار دینا مفسرین کے نزدیک درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر میں ہے:
وقوله جل جلاله: ﴿سيماهم في وجوههم من أثر السجود﴾ قال على بن أبي طلحة عن ابن عباس رضي الله عنه: ﴿سيماهم في وجوههم﴾ يعني السمت الحسن. وقال مجاهد وغير واحد: يعني الخشوع والتواضع. وقال ابن أبي حاتم: حدثنا أبي، حدثنا على بن محمد الطنافسي، حدثنا حسين بن جعفي عن زائدة عن منصور عن مجاهد ﴿سيماهم في وجوههم من أثر السجود﴾ قال: الخشوع. قلت: ما كنت أراه إلا هذا الأثر في الوجه، فقال: ربما كان بين عيني من هو أقسي قلباً من فرعون. وقال السدي: الصلاة تحسن وجوههم، وقال بعض السلف: "من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار" وقد أسنده ابن ماجة في سننه عن إسماعيل بن محمد الصالحي عن ثابت بن موسى عن شريك، عن الأعمش، عن أبي سفيان عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار" والصحيح أنه موقوف. وقال بعضهم: إن للحسنة نوراً في القلب وضياءً في الوجه وسعة في الرزق ومحبة في قلوب الناس. وقال أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه: ما أسرّ أحد سريرة إلا أبداه الله تعالى على صفحات وجهه وفلتات لسانه، والغرض أن الشيء الكائن في النفس يظهر على صفحات الوجه، فالمؤمن إذا كانت سريرته صحيحة مع الله تعالى أصلح الله عزّ وجلّ ظاهره للناس. (تفسير ابن كثير: ٤/۲۱۵، سورة الفتح، مكتبة دار السلام)
معارف القرآن میں ہے:
﴿سيماهم في وجوههم من أثر السجود﴾
یعنی نماز ان کا ایسا وظیفہ زندگی بن گیا ہے کہ نماز اور سجدہ کے مخصوص آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں، مراد آثار سے وہ انوار ہے جو عبدیت و خشوع و خضوع سے ہر متقی عبادت گذار کے چہرے پر مشاہدہ کیے جاتے ہیں، پیشانی میں جو نشان سجدہ کا اثر پڑ جاتا ہے وہ مراد نہیں، خصوصاً نماز ِ تہجد کا یہ اثر بہت زیادہ واضح ہوتا ہے، جیسا کہ ابن ماجہ میں بروایت جابر رضي الله عنه رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے
"من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار"
یعنی جو شخص رات میں نماز کی کثرت کرتا ہے دن میں اس کا چہرہ حسین پُر نور نظر آتا ہے اور حضرت حسن بصری رحمه الله نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز یوں کے چہروں کا وہ نور ہے جو قیامت میں نمایاں ہوگا ۔ (معارف القرآن: ۸/۹۳)
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
تفسير مظهري: ۹/۳٦. تفسير طبري: ۱۱/۳۷۰. تفسير قرطبي ۱٦/۲۹۳. روح المعاني: ۲٦/۱۲٥. تفسير عثماني: ص ٦۸٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.