امت میں مختلف جماعتوں کے وجود کی وجوہات:
Question
آج کل مختلف جماعتیں پائی جاتی ہیں مثال کے طور پر دیوبندی حضرات، بریلوی حضرات، تبلیغی جماعت والے، خانقاہ والے اُمت میں آج جوڑ کیوں نہیں ہے کتنا اچھا ہوتا کہ پوری امت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مشورہ کرے کہ امت ایک کیسے ہو جائے مہربانی فرما کر واضح کریں کہ امت ایک کیسے ہو جائے؟
Answer
در اصل امت کا یہ اختلاف، زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے، اس سلسلہ میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ جن کا لقب عمر ثانی ہے، اور ان کی خلافت خلافتِ راشدہ کے برابر سمجھی جاتی ہے ان کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو ۔
"ما سرني لو أن أصحاب محمد لم يختلفوا لأنهم لو لم يختلفوا لم تكن رخصة"
یعنی مجھے اس بات سے مسرت نہ ہوتی اگر حضور
ﷺ
کے صحابہ میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر ان میں اختلاف نہ ہوتا تو رخصت اور گنجائش باقی نہ رہتی ۔
اور فتاوی شامی میں ہے کہ فقہاء کا اختلاف رحمت ہے اور جتنا بھی اختلاف زیادہ ہوگا اتنی ہی رحمت بھی زیادہ ہوگی
علماء کا اختلاف کب نہیں ہوا ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک بلکہ ابتدائے عالم ہی سے اختلاف موجود ہے خود ربّ العزت نے سارے انبیاء علیہم السلام پر کیا ایک ہی دین اتارا یقیناً نہیں اصولِ دین میں اتحاد رہا فروع دین ہمیشہ مختلف رہیں، خود حضرت داود
عليه السلام
اور حضرت سلیمان عليہ السلام کے مابین متعدد فیصلوں میں اختلاف ہوا لیکن اس اختلاف کے باوجود حق تعالی نے دونوں ہی کی مدح فرمائی ارشاد خداوندی ہے:
﴿ففهمناها سليمان وكلاً آتينا حكماً وعلماً﴾ (سورة الأنبياء).
کیا بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت ابو بکر و حضرت عمر میں اختلاف نہیں ہوا ۔
کیا مانعین زکوۃ سے قتال میں اختلاف نہیں ہوا ۔
کیا حضرت اسامہ رضي اللہ عنہ کے لشکر کو بھیجنے میں اختلاف نہیں ہوا ۔
کیا جمع قرآن پر اختلاف نہیں ہوا ۔
الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا باہم بہت سے مسائل میں اختلاف ہوا، اسی طرح بعد میں آنے والے ائمہ مجتہدین میں بہت سے مسائل میں اختلاف ہوا، اس زمانے میں اہل حق کی جتنی بھی مختلف جماعتیں ہیں یعنی صحیح العقیدہ وہ سب کی سب ہمارے لیے رحمت کا ذریعہ ہیں، اور یہ سب اللہ تعالی کی طرف پہنچنے کا ذریعہ ہیں، ہ میں تو کس قدر اللہ تعالی کا شکر یہ ادا کرنا چاہیے، اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ مختلف جماعتوں کا وجود اختلاف کی شکل ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے، در اصل یہ سب ایک ہی درخت کے پھل ہیں یعنی دین اسلام کے، چنانچہ اہل حق کی جس جماعت اور طریقہ کو دل پسند کرے اس کو اختیار کرے یا اپنے علمائے حق سے مشورہ کرے اور جو وہ مشورہ دیں اس پر عمل کرے، ہاں اگر کوئی ایسا با ہمت ہے کہ تبلیغی جماعت میں بھی حصہ لیتا ہے ساتھ ساتھ خانقاہ میں بھی جاتا ہے اور مدارس میں بھی تعاون کرتا ہے اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھی شرکت کرتا ہے تو نور علی نور ہے، اسے ایک آسان مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔
یہاں سے دربن جانے کے لیے مختلف ذرائع ہیں، اگر اپنی گاڑی ہو تو اس میں بھی جا سکتا ہے اور بَس میں سفر کر سکتا ہے اور اگر زیادہ استعداد والا ہے تو ہوائی جہاز سے بھی جا سکتا ہے معلوم ہوا کہ ذرائع ضرور مختلف ہیں لیکن منزل مقصود ایک ہی ہے، اسی طرح یہ سمجھیے کہ مختلف جماعتیں دو اصل ذرائع ہیں لیکن ہماری منزل اور ہمارا مقصود ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالی کی رضا، اور دین حق کی نشر و اشاعت ہے ۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:
البتہ یہ ضروری ہے کہ مقصود اللہ کی اطاعت ہو اور کلمۂ حق کا اظہار ہو اپنی جماعت کی بے جا حمایت نہ ہو جس کو عصبیت اور تعصب کہتے ہیں، اختلاف میں کوئی مضائقہ نہیں اگر قواعد کے تحت ہو تو ممدوح ہے، اس اختلاف کو نزاع بنا لینا اسے مسلمانوں کے تشتت اور افتراق کا ذریعہ بنانا مذموم ہے اور دونوں میں کھلا ہوا فرق ہے ہم لوگ اس اختلاف کو جو خوبی کی چیز تھی اپنے لیے مصیبت اور سببِ ہلاکت بنا ر ہے ہیں، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ جو جلیل القدر تابعی، مشہور فقہاء، اکابرِ صوفیہ میں سے ہیں بعض مرتبہ تحقیق کے زور میں تقدیر کے مسئلہ میں ایسے الفاظ نکل گئے جو جمہور علماء کے خلاف تھے، بڑا شور مچا بڑے زار بندھے پھر کیا تھا جھوٹی باتیں ان کی طرف منسوب ہونے لگیں، ایوب کہتے ہیں کہ دو قسم کے آدمیوں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ پر جھوٹ باندھا ایک وہ لوگ جو فرق قدریہ میں تھے وہ اپنی رائے کو رواج دینا چاہتے تھے تو حسن بصری رحمہ اللہ کو اپنا ہم مسلک ظاہر کرتے تھے، دوسرے وہ لوگ جن کو ان سے ذاتی بغض تھا وہ ان کے اقوال کو پھیلا تے تھے، بعینہٖ یہی مثال ہمارے زمانے میں ہے جن کو اپنی رائے رائج کرنا ہوتا ہے وہ جماعت کے بڑے کی طرف اس کو منسوب کر دیتے ہیں اور جن کو ان سے خلاف ہوتا ہے وہ ان جھوٹے اقوال کو نقل کرتے ہیں جس سے جھگڑے اور مخالفت کی خلیج وسیع ہوتی رہتی ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علماء حق میں سے جس سے عقیدت ہو جائے اور اس کا عالم با عمل ہونا متحقق ہو جائے تو اس کے ارشادات پر عمل ہو لیکن ہم لوگوں میں باوجود ادعائے محبت و عقیدت کے عمل تو ندارد ہے، ساری محبت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بڑے کی محبت میں دوسروں کے بڑے کو گالیاں دیں، کلام اللہ میں ارشادِ خداوندی ہے:
﴿ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبو الله عدواً بغير علم﴾ (سورة الأنعام).
قرآن پاک تو دوسروں کے بتوں کو گالیاں دینے کی بھی ممانعت کرتا ہے ۔ (
الاعتدال في مراتب الرجال، ص: ۲۱۲).
لہذا ہ میں چاہیے کہ ہم کسی کی مخالفت کرنے کے ب جائے اپنی درستی اور اصلاح کی فکر کرتے رہیں، البتہ بعض ایسی جماعتیں جن سے ہمارا عقائد میں اختلاف ہے وہ جب تک صحیح عقیدہ پر نہ آ جائیں تب تک اختلاف باقی ر ہے گا، ایسی کوئی بات نہیں کہ ہ میں ان لوگوں سے بغض و عداوت ہے بلکہ ان کے عقائد سے بیزار اور ان کے بعض اعمال سے براءت ظاہر کرتے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ آدمی کو اہل حق کی جس جماعت کے بارے میں بھی شرحِ صدر ہو جائے وہ ان کے ساتھ شامل ہو جائے اور اگر تمام جماعتوں میں شرکت کر سکتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (اختلاف الائمۃ، یعنی ائمہ کرام کے درمیاں اختلاف کی وجوہات، از شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ، ط: اتحاد بک ڈپو دیوبند) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.