سماعِ موتی کے بارے میں تحقیق:
Question
اگر کوئی قبرستان جا کر مردوں کو سلام کرے یا اس کے علاوہ مردوں کو خطاب کرے تو مردے سنتے ہیں یا نہیں؟ اس میں احناف کا کیا مسلک ہے؟
Answer
سماعِ موتی کے مسئلہ میں اختلاف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے ۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: حضرت عبد اللہ ابن عمر
رضي الله عنه
نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے قلیبِ بدر کے پاس آواز دی
"هل وجدتم ما وعد ربكم حقاً"
پھر ان کے بارے میں فرمایا: "
إنهم الآن يسمعون ما أقول"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو فرمایا کہ نبی ﷺ نے "
إنهم ليعلمون"
فرمایا (نہ کہ
يسمعون
) گویا ابن عمر
رضي الله عنه
کی بات کی تردید کی، پھر یہ آیتِ کریمہ پیش فرمائی
﴿إنك لا تسمع الموتى
﴾
کوئی حدیث پیش نہیں کی، معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نزدیک سماعِ موتی ثابت نہیں ۔
احکام القرآن میں ہے:
وحكي السفاريني في البحور الزاخرة أن عائشة رضي الله تعالى عنها ذهبت إلى نفي سماع الموتى ووافقها طائفة من العلماء على ذلك ورجحه القاضي أبو يعلى من أكابر أصحابنا يعني الحنابلة في كتابه الجامع الكبير. (أحكام القرآن: ۳/۱٦٤، حضرت مفتي محمد شفيع صاحب رحمه الله، تكميل الحبور بسماع أهل القبور، إدارة القرآن).
لیکن اس کے باوجود بعض حضرات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے رجوع کے قائل ہیں ۔
فتح الباری میں ہے:
ومن الغريب أن في المغازي لا بن إسحاق رواية يونس بن بكير بإسناد جيد عن عائشة رضي الله تعالى عنها مثل حديث أبي طلحة، وفيه: ما أنتم بأسمع لما أقول منهم، وأخرجه أحمد بإسناد حسن، فإن كان محفوظاً فكأنها رجعت عن الإنكار لما ثبت عندها من رواية هؤلاء الصحابة لكونها لم تشهد القصة. (فتح الباري: ۷/۳۰۳).
ترمذی شریف کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
فلما قدمت عائشة رضي الله تعالى عنها أتت قبر عبد الرحمٰن بن أبي بكر رضي الله عنه فقالت:
إلى قوله ثم قالت: والله لو حضرتك ما دفنت إلا حيث مت ولو شهدتك ما زرتك. (رواه الترمذي: ۱/۲۰۳).
حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کے نزدیک سماعِ موتی ثابت ہے ۔
نیز دیگر حضرات کے نزدیک بھی ثابت ہے، ملاحظہ ہو احکام القرآن میں ہے:
وذهبت طوائف من أهل العلم إلى سماعهم في الجملة وقال ابن عبد البر: إن الأكثرين على ذلك وهو اختيار ابن جرير الطبري وكذا ذكر ابن قتيبة وغيره. (أحكام القرآن: ۳/۱٦۵).
منکرین سماعِ موتی دلیل میں آیاتِ قرآنیہ پیش کرتے ہیں:
(۱) ﴿إنك لا تسمع الموتى﴾ (سورة النمل: ۸۰).
(۲) ﴿وما أنت بمسمع من في القبور﴾ (سورة فاطر: ۲۲).
قائلین سماعِ موتی دلیل میں بخاری شریف کی روایت پیش کرتے ہیں:
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
باب الميت يسمع خفق النعال
عن النبي ﷺ قال: العبد إذا وضع في قبره وتولي وذهب أصحابه حتى أنه يسمع قرع نعالهم
الحديث. (رواه البخاري: ۱/۱۷۸).
وفي الترمذي باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر: عن ابن عباس رضي الله عنه قال: مر رسول الله ﷺ بقبور المدينة فأقبل عليهم بوجهه فقال: السلام عليكم يا أهل القبور
الحديث. (رواه الترمذي: ۱/۲۰۳).
احکام القرآن میں ہے:
من أشهر ذلك ما رواه ابن عبد البر مصححاً له عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعاً: ما من أحد يمر بقبر أخيه المسلم كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا رد الله عليه روحه حتى يرد عليه السلام. (أحكام القرآن: ۳/۱٦۵، إدارة القرآن).
آیاتِ قرآنیہ کا جواب:
یہ حضرات آیات کی توجیہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان میں سماع "سننے" کی نفی نہیں ہے، بلکہ اسماع "سنانے" کی نفی ہے، یا انتفاعِ سماع کی نفی ہے، یعنی مردے زندوں کے کلام سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں، اگر ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھ سکتے، روزہ رکھو تو نہیں رکھ سکتے ۔
فیض الباری میں ہے:
وأجاب السيوطي:
سماع موتي كلام الخلق قاطبة قد صح فيها لنا الآثار بالكتب
وآية النفي معناها سماع هدي لا يسمعون ولا يصغون للأدب
(فيض الباري: ۲/٤٦۷، باب قول الميت وهو على الجنازة قدموني).
بہرحال یہ اختلاف چونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے اس لیے اس میں غلو ٹھیک نہیں ہے، جو انکار کرتے ہیں وہ حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا کی اتباع میں، اور جو قائل ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کے قول کے مطابق، لہذا ایک دوسرے کی تفسیق و تکفیر سے بچنا چاہیے ورنہ بالآخر یہ الزام کسی نہ کسی صحابی پر ضرور لگے گا ۔ لیکن روایات سے سلام کا سماع ثابت ہے تو اس کو ثابت مانا جائے اور اس کے علاوہ اللہ تعالی کی مرضی پر موقوف ہے سنانا چاہے تو سنا دے نہ چاہے تو نہ سنائے ۔
البتہ احناف کا اصل مذہب تو یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وأما الكلام فلأن المقصود منه الإفهام والموت ينافيه ولا يرد ما في الصحيح من قوله ﷺ لا هل قليب بدر: هل وجدتم ما وعد ربكم حقاً فقال عمر: أتكلم الميت يا رسول الله فقال عليه الصلاة والسلام: والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع من هؤلاء أو منهم، فقد أجاب عنه المشايخ بأنه غير ثابت يعني من جهة المعنى وذلك لأن عائشة رضي الله تعالى عنها ردته بقوله تعالى وما أنت بمسمع من في القبور، إنك لا تسمع الموتى، وأنه إنما قاله على وجه الموعظة للأحياء وبأنه مخصوص بأولئك تضعيفاً للحسرة عليهم، وبأنه خصوصية له عليه الصلاة والسلام معجزة، لكن يشكل عليهم ما في مسلم: أن الميت ليسمع قرع نعالهم إذا انصرفوا، إلا أن يخصوا ذلك بأول الوضع في القبر مقدمة للسؤال جمعاً بينه وبين الآيتين فإنه شبه فيهما الكفار بالموتى لإفادة بعد سماعهم وهو فرع عدم سماع الموتى، هذا حاصل ما ذكره في الفتح. (الشامي: ۳/۸۳٦، مطلب في سماع الميت الكلام، سعيد. وكذا في فتح القدير: ۲/۱۰٤، دار الفكر).
لیکن علامہ شامی رحمه الله اور محقق ابن ہمام رحمه الله اول وضع میں بھی سماع کے قائل انہی مواقع میں ہیں جہاں وارد ہے، مطلق سماع کے قائل نہیں ہیں ۔
ملاحظہ ہو فیض الباری میں ہے:
وأما الشيخ ابن الهمام رحمه الله فجعل الأصل هو النفي وكل موضع ثبت فيه السماع جعله مستثنى ومقتصراً علي المورد. (فيض الباري: ۲/٤٦۷).
کفایت المفتی میں ہے:
اکثر صوفیہ سماعِ موتی کے قائل ہیں لیکن علمائے حنفیہ کے نزدیک ثابت نہیں، ہاں میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اس قدر حیات اس میں ڈالی جاتی ہے کہ وہ آرام یا تکلیف کو محسوس کرے ۔ (کفایت المفتی: ۱/۲۰۱) ۔
حضرت شاہ صاحب رحمه الله نے فیض الباری میں نقل کیا ہے کہ ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں کہ احناف میں سے کسی نے بھی سماعِ موتی کا انکار نہیں کیا ۔ ملاحظہ ہو :
وفي رسالة غير مطبوعة لعلي القاري رحمه الله: أن أحداً من أئمتنا لم يذهب إلى إنكارها وإنما استنبطوها من مسألة في باب الأيمان وهي حلف رجل ألا يكلم فلاناً فكلمه بعد ما دفن لا يحنث قال القاري رحمه الله: ولا دليل فيها على ما قالوا فإن مبنى الأيمان على العرف وهم لا يسمونه كلاماً. (فيض الباري: ۲/٤٦۷).
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صاحب رحمه الله لکھتے ہیں:
حضرت ابو حنیفہ رحمه الله سے اس بارے میں کچھ منقول نہیں، فتاوی غرائب کا جو حوالہ منکرین سماعِ موتی حضرت ابو حنیفہ رحمه الله کی طرف نسبت کرتے ہیں، وہ بے اصل ہے ۔ (سماع الموتی: ۸۹) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: فتاوی دار العلوم دیوبند: جلد پنجم ۔ امداد المفتین: جلد دوم: ٤۳۹، کتاب الجنائز ۔ و امداد الفتاوی: ۵/٤۳۹ ۔ و فتاوی عثمانی: ۱/٦۷ ۔ ورسالہ سماع الموتی از حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.