تفسیروں میں اسرائیلی روایات کے اسباب:

7 min readFatwa Vol 1 #96Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

جلالین جو علامہ سیوطی رحمہ اللہ اور محلی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں بہت ساری اسرائیلی روایات آئی ہیں حالانکہ ان حضرات کی شان کا تقاضا یہ تھا کہ اسرائیلیات سے اجتناب کرتے پھر کیوں اسرائیلیات کو اپنی تفسیروں میں جگہ دی؟

Answer

اسرائیلی روایات کے لکھنے کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) چونکہ وہ مختلف اسانید کے ساتھ مروی ہیں اس لیے بعض مفسرین نے اس کی اصل سے قطع نظر کرتے ہوے ان کو کتب تفاسیر میں درج کیا جیسے قصہ غرانیق و قصہ ہاروت و ماروت کو حافظ ابن حجر جیسے محدث بھی مانتے ہیں
(۲) بعض حضرات کو علم اسماء الرجال سے زیادہ واسطہ نہیں تھا اس لیے انہوں نے یہ روایات درج کر لیں ۔
(۳) بعض حضرات کو اسماء الرجال کا تجربہ تھا لیکن ان کی اسانید کی موجود گی کی وجہ سے یہ تحقیق قاری اور مدرس کے حوالہ کی کہ کون سی روایات کس درجہ کی ہے ۔
(٤) تھوڑی مدت میں یا اوائلِ شباب میں تصنیف کرنے کی وجہ سے بعض مسامحات بعض مصنفین سے ہوے، اور وہ نقل در نقل چلے آر ہے ہیں ۔
ملاحظہ ہو
مناهل العرفان في علوم القرآن
میں ہے:

ضعف الرواية بالمأثور وأسبابه.
وأما تفسير القرآن بما يعزي إلى الصحابة والتابعين فإنه يتطرق إليه الضعف من وجوه منها:
اختلاط الصحيح بغير الصحيح ونقل كثير من الأقوال المعزوة إلى الصحابة والتابعين من غير إسناد ولا تحر، مما أدي إلى التباس الحق بالباطل.
زد على ذلك أن من يري رأياً يعتمده دون أن يذكر له سنداً، ثم يجيء من بعده فينقله على اعتبار أن له أصلاً، ولا يكلف نفسه البحث عن أصل الرواية ولا من يرجع إليه هذا القول.
أن تلك الروايات مليئة بالإسرائيليات، ومنها كثير من الخرافات التي يقوم الدليل على بطلانها، ومنها ما يتعلق بأمور العقائد التي لا يجوز الأخذ فيها بالظن ولا برواية الآحاد، بل لا بد من دليل قاطع فيها
قال الإمام أحمد (ثلاثة ليس لها أصل: التفسير والملاحم والمغازي) وذلك لأن الغالب عليها المراسيل وكلمة الإنصاف في هذا الموضوع أن التفسير بالمأثور نوعان (أحدهما) ما توافرت الأدلة على صحته وقبوله، وهذا لا يليق بأحد رده ولا يجوز إهماله وإغفاله ولا يجمل أن نعتبره من الصوارف عن هدي القرآن، بل هو على العكس عامل من أقوى العوامل على الاهتداء بالقرآن.
(ثانيهما) ما لم يصح لسبب من الأسباب الآنفة أو غيرها، وهذا يجب رده ولا يجوز قبوله ولا الاشتغال به اللهم إلا لتمحيصه والتنبيه إلى ضلاله وخطئه حتى لا يغتر به أحد وقد أشار ابن خلدون إلى أن العرب لم يكونوا أهل كتاب ولا علم وإنما غلبت عليهم البداوة والأمية، وإذا تشوفوا إلى معرفة شيء مما تشوف إليه النفوس البشرية في أسباب المكونات وبدء الخليفة وأسرار الوجود، فإنما يسألون عنه أهل الكتاب قبلهم ويستفيدون منهم إلى أن قال وهؤلاء مثل كعب الأحبار وغيره، فامتلأت التفاسير من المنقولات عنهم تلقيت بالقبول، لما كان لهم من المكانة السامية، ولكن الراسخين في العلم قد تحروا الصحة، وزيفوا ما لم تتوافر أدلة صحته
قد رووا ما رووه على أنه مما كان في الإسرائيليات، فتقبلها الآخذون على أنها من الإسلاميات ولهذا يجب النظر في هذه المرويات فإن كانت مما يقرره الإسلام قبلناها، وإن كانت مما يرده رددناها، وإن كانت مما سكت عنه سكتنا عنها عملاً بقوله ﷺ "إذا حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم" رواه البخاري بهذا اللفظ. (مناهل العرفان في علوم القرآن: ۱/٤۹٦).

"تفسیروں میں اسرائیلی روایات" میں تفسیر کی مشہور کتابیں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
مذکورہ کتابوں میں سے کئی ایک اسرائیلیات و موضوعات کا بڑا ذخیرہ ہے کئی کتابوں میں ان روایتوں کو ان کی تردید کے لیے ذکر کیا گیا ہے لیکن بعض بعض کتابوں میں ان پر تنقید نہیں کی گئی ہے صرف روایتوں کو ذکر کر دینے پر اکتفاء کر لیا گیا ہے، البتہ ہر روایت کی سند موجود ہے سند کی روشنی میں صحیح و غلط اسرائیلی و اسلامی روایتوں میں کسی حد تک امتیاز کیا جا سکتا ہے، مذکورہ بالا مفسرین میں حافظ ابن کثیر نے سب سے زیادہ اسرائیلیات کی تردید پر توجہ کی ہے کیونکہ وہ محدث بھی ہیں علم اسماء الرجال اور فن جرح و تعدیل سے بھی واقف ہیں، ان کی ہر تردید علمی استدلال لیے ہوے ہے متاخرین میں علامہ آلوسی جو تیرہویں صدی کے عالم ہیں، مختلف علوم و فنون میں ان کو درجہ کمال حاصل ہے اور پھر متقدمین کی ساری کتابیں ان کے سامنے ہیں اس لیے انہوں نے کسی بھی آیت کے ضمن میں بیان کی جانے والی ساری اسرائیلی روایتوں کو یکجا کر دیا ہے، ہر روایت کو تفصیل سے لکھتے ہیں پھر علمی انحطاط کے اس دور میں ان کو پڑھ کر جو ذہنوں میں کشمکش پیدا ہو تی ہے اور جو الجھاؤ پیدا ہو تا ہے اس سے عہدہ بر آ ہو نا مشکل ہو جا تا ہے ہر شخص محدث نہیں علم اسماء الرجال اور فن جرح تعدیل سے واقف نہیں، عام قاری کے پاس کو ئی ایسی کسوٹی نہیں جس پر ان روایتوں کو پر کھ کر کھوٹے اور کھرے کو الگ الگ کر سکے، علامہ سیوطی رحمہ اللہ جن کی موضوع روایتوں پر خود اپنی کتاب
"اللآلئ المصنوعة في الاحاديث الموضوعة"
موجود ہے اس کے باوجود اپنی تفسیر میں بعض جگہ وہ موضوع روایت ذکر کرتے ہیں اور اس کے موضوع ہو نے کا ذکر بھی نہیں کرتے ہیں ۔ (تفسیروں میں اسرائیلی روایات ص
45)

علامہ جلا ل الدین محلی رحمہ اللہ اگر چہ بڑے مفسر تھے جن کی تفسیر کو پوری دنیا میں شرفِ مقبولیت حاصل ہے، لیکن چونکہ محدث اور ماہر فی الجرح و التعدیل نہیں تھے تو کبھی غیر محقق اور غیر صحیح روایات اور اقوال ذکر کرتے ہیں، محققین علماء نے ان کی تردید کی ہیں، اور جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے حالات میں لکھا ہے کہ اپنے استاذ جلال الدین محلی رحمہ اللہ کی وفات کے چھ سال کے بعد اکیس برس کی عمر میں صرف چالیس یوم میں جلالین نصفِ اول محلی کے طرز پر لکھی (حالات المصنفین و تذکرۃ الفنون ص
۲۵
) اور محدث ہو نے کی بناء پر انہوں نے علامہ محلی رحمہ اللہ سے کم اسرائیلیات اور غیر صحیح روایات کو ذکر کیا نیز اتنی کم مدت میں تفسیر لکھنے کے بعد چونکہ درس و تدریس میں لگ گئے تو نظر ثانی کا موقع بھی نہیں ملا ہو گا ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.