تجارتی سامان میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا:
Question
ایک شخص اپنی دکان کے مالِ تجارت کی زکوٰۃ نکالنا چاہتا ہے تو کس قیمت کے اعتبار سے نکالے قیمتِ خرید یا قیمتِ فروخت؟ اور کس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں سامانِ تجارت کی زکوٰۃ نکالتے وقت قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا ۔
ملاحظہ ہو الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
يقوم التاجر العروض أو البضائع التجارية في آخر كل عام بحسب سعرها في وقت إخراج الزكاة لا بحسب سعر شرائها ويخرج الزكاة المطلوبة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۲/۷۹۲، ۷٦۰، دار الفكر).
الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:
وتعتبر قيمتها في البلد الذي فيه المال حتى لو أرسل تجارة إلى بلد آخر فحال عليه الحول اعتبرت قيمتها في تلك البلد فلو أرسلها إلى مفازة اعتبرت قيمتها في أقرب الأمصار إلى تلك المفازة. (الفقه على المذاهب الأربعة: ۱/٦۰۷).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: سود اگر کے پاس ما ل موجود ہے اب زکوٰۃ دینا چاہتا ہے سال بھر کے بعد تو اس مال کی قیمتِ خرید کا اعتبار ہوگا یا بازار کے بھاؤ کا لحاظ ہوگا؟
الجواب: مالِ تجارت کی جو قیمت بازار میں بوقتِ زکوٰۃ دینے کے ہے اسی قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کی جاوے، خواہ قیمتِ خرید سے زیادہ ہو یا کم ہو بحوالہ شامی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱٤۱) ۔
جواہر الفتاوی میں ہے:
مال میں خواہ سونا چاندی ہو یا مالِ تجارت سب کے اندر وجوبِ زکوٰۃ کے لئے قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا قیمتِ خرید کا اعتبار نہ ہوگا ۔ (جواہر الفتاوی: ۱/٦۳، امداد الفتاوی: ۲/٤۲) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
موجود ہ نرخ چاندی و سونے کا زکوٰۃ نکالنے کے لئے معتبر ہوگا ۔ (کفایت المفتی: ٤/۳۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.