زوجین کا ایک دوسرے کو نام سے پکارنے کا حکم:
Question
کیا میاں، بیوی ایک دوسرے کو نام سے پکار سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ اس ملک میں بکثرت سننے میں آتا ہے کہ عورتیں اپنے شوہروں کو نام سے پکارتی ہیں، کیا اس میں کوئی قباحت ہے یا نہیں؟
Answer
بیوی کا شوہر کو اس کے نام سے پکارنا تعظیم و ادب کے خلاف اور مکروہ ہے، شوہر کی عزت و احترام کو برقرار رکھتے ہوے تعظیمی الفاظ سے پکارنا چاہیے، اسی طرح کنیت سے یعنی ابو فلان، ابو فلانہ کہہ کر پکارنا بھی درست ہے ۔
ہاں شوہر بیوی کو نام لے کر پکار سکتا ہے چنانچہ بکثرت روایات موجود ہیں کہ آنحضور ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو ان کے ناموں سے پکارتے تھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضور ﷺ کے لیے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا جو عظمت و احترام کا ترجمان ہے ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:
عن أم عطية قالت: بعث إلى رسول الله ﷺ بشاة من الصدقة فبعثت إلى عائشة رضي الله تعالى عنها منها بشيء فلما جاء رسول الله ﷺ إلى عائشة رضي الله تعالى عنها قال: هل عندكم شيء قالت: لا، إلا أن نسيبة بعثت إلينا من الشاة التي بعثتم بها إليها قال: إنها قد بلغت محلها. (رواه مسلم: ۱/۳٤۵، باب إباحة الهدية للنبي ﷺ، فيصل پبلشرز).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
يكره أن يدعو الرجل أباه والمرأة زوجها باسمه كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۲، باب تسمية الأولاد).
"الموسوعة الفقهية الكويتية"
میں ہے:
ذكر الحنفية أنه يكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة زوجها باسمه بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم لمزيد حقها على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية لانها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها، لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۱۱/۳۳۷، أحكام التسمية، نداء الزوج والأب ونحوهما بالاسم المجرد، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الكويت).
کتاب الفتاوی میں ہے:
نام لے کر مخاطب کرنا خلاف ادب ہے، اس لیے بیٹا اپنے باپ کو اور بیوی اپنے شوہر کو نام سے نہ پکارے فقہاء نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اگر غائبانہ نام سے ذکر کیا جائے تو حرج نہیں، شوہر بیوی کو نام لے کر پکار سکتا ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو نام لے کر مخاطب فرمایا ہے، البتہ بتقاضۂ حیاء لوگوں کی موجود گی کی وجہ سے بال بچوں کی نسبت سے مخاطب کیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ (کتاب الفتاوی:
٤
/
٤۱۰
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.