حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجتہد ہونے کی تحقیق:
Question
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمیں پر تشریف لانے کے بعد مذاہب اربعہ میں سے کس مذہب کو اختیار فر مائیں گے؟ یا خود مجتہد ہوں گے؟ مشہور ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر ہوں گے، نیز جس مذہب کے موافق وہ عمل کریں گے تو کیا ان کا عمل حرفِ آخر ہوگا یا نہیں؟ اگر ایسا ہوا تو پھر دوسرے مذاہب ختم ہو جائیں گے، نیز دنیا میں پتہ چل جائے گا کہ کون سا امام حق پر تھا جب کہ اللہ تعالی نے دنیا میں اس معاملے کو چھپایا ہے ہاں آخرت میں محق کو دو اجر اور مخطی کو ایک ملنے سے شاید پتہ چلتا ہو تو اس اشکال کا کیا حل ہے؟
Answer
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمیں پر تشریف لانے کے بعد ملتِ محمدیہ کو اختیار فرمائیں گے، اور اسی کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكماً وعدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها. (رواه مسلم: ۱/۸۷، باب نزول عيسى ابن مريم عليه السلام، ط: فيصل، والبخاري: ۱/۲۹٦، باب قتل الخنزير، ط: فيصل).
فتح الملهم
میں ہے:
قوله حكماً: أي حاكماً والمعنى أنه ينزل حاكماً بهذه الشريعة فإن هذه الشريعة باقية لا تنسخ، بل يكون عيسى عليه السلام حاكماً من حكام هذه الأمة، ولا يكون نزوله من حيث أنه نبي مستقل، كما كان قد بعث قبل في بني إسرائيل.
قوله: ويضع الجزية: قال النووي رحمه الله: ومعنى وضع عيسى الجزية مع أنها مشروعة في هذه الشريعة أن مشروعيتها مقيدة بنزول عيسى لما دل عليه هذا الخبر وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية، بل نبينا ﷺ هو المبين للنسخ بقوله هذا. (فتح الملهم: ۲/۲۸۵. ۲۸٦).
فتاوی حدیثیہ میں شیخ ابن حجر ہیتمی المکی رحمہ اللہ (
۹۰۹/۹۷٤ هـ)
فرماتے ہیں:
(وسئل) نفع الله به عن نزول عيسى عليه السلام أ يحكم بشريعتنا أو بشريعة أخرى؟
(فأجاب) بقوله: الذي نص عليه العلماء، بل أجمعوا عليه أنه يحكم بشريعة محمد ﷺ وعلى ملته، وفي رواية سندها جيد مصدقاً بمحمد وعلى ملته إماماً مهدياً وحكماً عدلاً، وفي رواية لابن عساكر فيصلي الصلوات وبجمع الجمع ومجموع الخمس وصلاة الجمعة لم يكن في غير هذه الملة. (الفتاوى الحديثية، ص ۱۲۸، ط: دار الفكر).
رہی یہ بات کہ وہ کیا طریقہ اختیار فرمائیں گے اور مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کریں گے یا خود مجتہد ہوں گے یا کوئی اور شان ہوگی، اس سلسلہ میں علامہ شامی رحمہ اللہ (م۱۲۵۲ھ) نے رد المحتار میں تحریر فرمایا ہے:
وإنما يحكم بالاجتهاد، أو بما كان يعلمه من شريعتنا بالوحي أو إنما تعلمه منها وهو في السماء أو أنه ينظر في القرآن فيفهم منه كما يفهم نبينا عليه الصلاة والسلام. (فتاوى الشامي: ۱/۵۷، مقدمة، ط: سعيد).
یعنی اجتہاد کریں گے یا پہلے سے ہماری شریعت کو بذریعہ وحی جانتے تھے یا آسمان میں شریعت محمدیہ سیکھ لی تھی یا قرآن میں دیکھ کر شریعت کو سمجھیں گے جیسے رسول اللہ ﷺ سمجھتے تھے ۔
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فينزل وقد علم بأمر الله في السماء ما يحتاج إليه من علم هذه الشريعة للحكم بين الناس والعمل فيه في نفسه، فيجتمع المؤمنون ويحكمونه على أنفسهم إذ لا يصلح لذلك غيره. (عمدة القاري: ۱۱/۲۰٤، ملتان).
فتاوی حدیثیہ میں شیخ ابن حجر ہیتمی المکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(وسئل) نفع الله به بما لفظه أجمعوا على أن عيسى عليه السلام يحكم بشريعتنا فما كيفية حكمه بذلك بمذهب أحد من المجتهدين أم باجتهاد؟
(فأجاب) بقوله: عيسى عليه السلام منزه عن أن يقلد غيره من بقية المجتهدين، بل هو أولى بالاجتهاد ثم علمه بأحكام شرعنا إما بعلمها من القرآن فقط أو برواية السنة عن نبينا ﷺ فإنه اجتمع به في حياته مرات وحينئذٍ فلا مانع أنه تلقى عن النبي ﷺ أحكام الشريعة المخالفة لشريعة الإنجيل لعلمه أنه سينزل وأنه يحتاج لذلك فأخذها منه بلا واسطة، وفي حديث ابن عساكر: ألا أن ابن مريم ليس بيني وبينه نبي ولا رسول ألا أنه خليفتي في أمتي من بعدي الخ. (الفتاوى الحديثية، ص۱۲۹، ط: دار الفكر).
رہا یہ اشکال کہ پھر تو اختلافی مسائل میں جس پہلو کو وہ اختیار کریں گے بس وہی حق ہوگا اور تمام اہل مذاہب اسی کی طرف رجوع کریں گے؟
اس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امور اجتہادیہ میں ان سے اختلاف کی گنجائش ہوگی، ہاں وحی کے امور میں ان سے اختلاف نہیں ہو سکتا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہ کو ان کے شوہر مغیث کے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا اور حضرت بریرہ نے اپنے اجتہاد اور رائے کو ترجیح دی اور رسول اللہ ﷺ کے مشورہ کو قبول نہیں فرمایا یا رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات میں حضرت عمر رضي اللہ عنہ کی رائے پر عمل فرما کر کتابت کا ارادہ ترک فرمایا ۔
اور یہ بات کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (م۱۵۰ھ) کے مذہب پر ہوں گے علامہ حصکفی رحمہ اللہ (م۱۰۸۸ھ) نے الدر المختار کے مقدمہ میں تحریر فرمائی ہے لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ نے بلا دلیل کہ کر رد فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ امام شعرانی رحمہ اللہ (م۹۷۳ھ) کا مکاشفہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
لكن لا دليل في ذلك، على أن نبي الله عيسى على نبينا وعليه الصلاة والسلام يحكم بمذهب أبي حنيفة رحمه الله وإن كان العلماء موجودين في زمنه فلا بد له من دليل، ولهذا قال الحافظ السيوطي رحمه الله في رسالة سماها الإعلام ما حاصله: إن ما يقال: إنه يحكم بمذهب من المذاهب الأربعة باطل لا أصل له، وكيف يظن بنبي أنه يقلد مجتهداً مع أن المجتهد من آحاد هذه الأئمة لا يجوز له التقليد، وإنما يحكم بالاجتهاد أو بما كان يعلمه من شريعتنا بالوحي أو إنما تعلمه منها وهو في السماء، أو أنه ينظر في القرآن فيفهم منه كما يفهم نبينا عليه الصلاة والسلام، واقتصر السبكي على الأخير. وذكر ملا على القاري أن الحافظ ابن حجر العسقلاني رحمه الله سئل هل ينزل عيسى عليه السلام حافظاً للقرآن والسنة أو يتلقاهما عن علماء ذلك الزمان؟ فأجاب: لم ينقل في ذلك شيء صريح، والذي يليق بمقامه عليه الصلاة والسلام أنه يتلقى ذلك عن رسول الله ﷺ فيحكم في أمته كما تلقاه منه لأنه في الحقيقة خليفة منه. (فتاوى الشامي: ۱/۵۷، مقدمة، ط: سعيد).
حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ (م۱۳۰٤ھ) مقدمۃ الہدایہ میں امام سیوطی رحمہ اللہ (م۹۱۱ھ) کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
واتفق معه القاري وقال: إنه أمر لا أصل له ولا منع من أن ينزل على عيسى عليه السلام وحي فإنه ليس دليل قاطع على أنه لا ينزل الوحي بعد نبينا ﷺ. (مقدمة الهداية: ۳/٦).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.