شاۃِ مسروقہ کی قربانی کا حکم:
Question
اگر کسی نے جانور چوری کر کے اس کی قربانی کر لی، بعد میں پشیمان ہوا اور اس کی قیمت مالک کو پہنچا دی، تو اب اس کی قربانی ہوئی یا نہیں؟ بعض علماء کہتے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں غصب کا مسئلہ ملتا ہے کہ مغصوب جانور کی قربانی کے بعد تاوان ادا کر دے تو قربانی ہو جاتی ہے، لیکن چوری کا مسئلہ نہیں ملتا، آپ چوری کے مسئلہ کا حوالہ پیش فرما دے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ذابح سارق نے شاۃِ مسروقہ کی قیمت ادا کر دی اس وجہ سے اس کی قربانی ادا ہو گئی، ہاں نیک عمل کی ابتدا معصیت سے کرنے کی وجہ سے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے ۔ اور چوری کا صریح حوالہ درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں ۔
علامہ ابن الشحنہ الحلبی نے قربانی کا جواز تحریر فرمایا ہے:
وفي نظم الزندوستي: خمسة أشياء إذا أخذها من ملك الغير تجوز بها الأضحية وضمن قيمتها، أولها: غصب شاة وضحي بها، والثاني: لو سرق شاة وضحي بها
الخ. (لسان الحكام في معرفة الأحكام، ص ۳۸۷، نوع فيما يجوز من الأضحية ومالا يجوز).
(وكذا في خلاصة الفتاوى: ٤/۳۱۷، الفصل الرابع، المكتبة الرشيدية).
بدائع الصنائع میں:
لكنه يأثم لأن ابتداء فعله وقع محظوراً فيلزمه التوبة والاستغفار. (بدائع الصنائع: ۵/۷٦، سعيد، ورد المحتار: ٦/۳۳۱، سعيد).
تنبیہ: احسن الفتاوی (
۷
/
۵۰۵
) میں عدمِ جواز مرقوم ہے اور حوالہ غصب کا ہے لیکن ہم نے با حوالہ جواز لکھا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
ایک اشکال اور جواب:
اشکال: ما شاء اللہ اس مسئلہ کا حوالہ تو مل گیا کہ چوری کے جانور کے قربانی کرنے کے بعد اگر اس کی قیمت مالک کو ادا کر دی تو قربانی ہو گئی ۔
لو سرق شاة وضحي بها
الخ. (لسان الأحكام، ص: ۳۸۷، وغيره من الكتب الفقه).
لیکن ایک بات ذہن میں کھٹکتی ہے امید ہے کہ اس کا حل بتلائیں گے ۔ وہ یہ ہے کہ فقہا تحریر فرماتے ہیں کہ اجازت معدوم میں جاری نہیں ہوتی، مثلاً اگر فضولی کسی کی بکری فروخت کرے اور وہ مشتری کے پاس مر گئی اور پھر مالک نے اجازت دی تو اجازت نافذ نہیں ہو گی، اس لئے کہ معدوم میں اجازت نہیں چلتی،
كذا في عامة كتب الفقه.
نیز ہدایہ میں مذکور ہے:
ولا نفاذ بدون المحل.
یعنی اجازت ہالک میں نہیں چلتی، حاشیہ میں مذکور ہے:
يعني أن المعقود عليه بالهلاك صار إلى حالة لا يجوز ابتداء العقد عليه فلا يلحقها الإجازة. (الهداية: ۳/۳۰، رقم الحاشية، ص ۱۲).
اب قربانی ذبح کرنے اور کھانے کے بعد اجازت کیسے نافذ ہو گی؟
الجواب: اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ سارق ضمان ادا کرنے سے اس بکری کا مالک بن گیا اور وجوب ضمان کا سبب سرقہ ہے، پس ادائے ضمان منسوب ہوگا سرقہ اور چوری کے وقت کی طرف یعنی سارق در اصل بوقتِ سرقہ مالک بنا اور ذبح سرقہ کے بعد واقع ہوا، لہذا قربانی صحیح ہو گئی ۔
ملاحظہ ہو فقہا شاۃِ مغصوبہ کی قربانی کے تحت فرماتے ہیں:
وإن ضمن قيمتها حية تجزي عن الذابح لأنه ملكها بالضمان من وقت الغصب بطريق الاستناد فصار ذابحاً شاة هي ملكه فتجزيه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۳۱).
تبیین الحقائق میں ہے:
لأن المضمونات تملك عند أداء الضمان مستنداً إلى وقت وجود سبب الضمان. (وهو السرقة في مسئلتنا فتستند إلى وقت السرقة فكأنه صار مالكاً حين السرقة). (تبيين الحقائق: ۳/۱۸٦، إمدادية، ملتان).
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: (
بدائع الصنائع: ۵/ ۷۷، سعيد، ورد المحتار: ٦/۳۳۱، سعيد، وتملكة البحر الرائق: ۸/۱۷۹، كوئته).
نیز ہدایہ میں بھی یہ عبارت موجود ہے:
وكذلك الملك في المضمون لان المضمونات تملك بأداء الضمان مستنداً إلى وقت الغصب عندنا. (الهداية: ۳/۳۷۵).
البتہ یہ ملکِ مستند چونکہ قوی نہیں ہے، من وجہ ملک ہے اور من وجہ ملک نہیں ہے اس لئے نفاذِ عین کے لئے کافی نہیں ہے، اسی لئے فضولی کی بیع میں مشتری کے پاس چیز ہلاک ہو گئی تو اب نفاذِ عین کے لئے یہ غیر کافی ہو گی اور بائع کی اجازت کام نہیں کرے گی ۔ ہاں یہ ملکِ ضعیف یا من وجہ ملک نفاذِ قرب میں مؤثر ہوگی، اور یہ قربانی ہے، لہذا قربانی ادا ہو جائے گی اور یہ تسلیم کیا جائے گا کہ قیمت ادا کرنے سے مالک بنا، اور ملک قبل الذبح ثابت ہو گئی اور قربانی درست ہو گئی ۔
لیکن بیع فضولی میں یہ بات غیر مسلم ہے ورنہ تضییع اموال کا باب مفتوح ہو جائے گا ۔ اس کی تفصیل محیط برہانی کی عبارت میں ملاحظہ فرمائیں:
والفرق: أن عند أداء الضمان يثبت للغاصب الملك مستنداً إلى وقت الغصب السابق والمستند فاتت للحال من وجه، ومن ذلك الوقت من وجه، وكان الملك فيما بين الغصب وأداء الضمان ثابتاً من وجه، ومثل هذا الملك لا يكفي لنفاذ العين، ويكفي لنفاذ القرب. (المحيط البرهاني: ٦/٤۸۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.