جنات کے دخولِ جنت کی کیفیت:

7 min readFatwa Vol 8 #231Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

جنت میں انسان اور جنات میں کیا فرق ہوگا؟ یعنی جنات کے اجسام انسانوں کی طرح ہوں گے یا اور کوئی کیفیت ہو گی؟ بینوا توجروا۔

Answer

علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے یا نہیں ؟ بقولِ راجح داخل ہوں گے۔ علامہ آلوسی رحمه الله نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ جنات انسانوں کی طرح جنت کی نعمتوں سے متمتع ہوں گے۔ ان کے اجسام کے بارے میں کوئی تصریح نہیں ملی۔ باقی احوالِ جنت و احوالِ آخرت کو احوالِ دنیا پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔ دنیا میں باری تعالی کی رؤیت موجود ہ آنکھوں سے ناممکن ہے اور آخرت میں رؤیت یقینی ہے۔ علامہ آلوسی رحمه الله روح المعانی میں لکھتے ہیں:

واستدل بالآية على أن الجن يدخلون الجنة ويجامعون فيها كالإنس فهم باقون فيها منعمين كبقاء المعذبين منهم في النار وهو مقتضي ظاهر ما ذهب إليه أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وابن أبي ليلى رحمه الله والأوزاعي رحمه الله وعليه الأكثر كما ذكره العيني رحمه الله في شرح البخاري

فإن ظاهره أنهم كالإنس يوم القيامة

قيل: نراهم ولا يرونا عكس ما كانوا عليه في الدنيا. (روح المعاني: ۲۷/۱۱۹، ط: دار التراث).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (الاشباہ و النظائر مع شرح الحموی:
۳
/
۹۱
۔
۱۰۰
، ط: ادارۃ القرآن، و آکام المرجان فی احکام الجان للعلامۃ بدر الدین الشبلی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
کیا غیبت کے گناہ میں توبہ و استغفار کافی ہے یا متعلقہ شخص سے معاف کرانا ضروری ہے؟
سوال: زید نے عمر کی غیبت کی، اس گناہ سے معافی مانگنے کا کیا طریقہ ہے؟ یعنی توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ عمر سے معافی مانگنا بھی ضروری ہے یا نہیں ؟ اگر غیبت اس شخص تک نہیں پہنچی تب بھی کبائر میں شمار ہے یا نہیں ؟ کن جگہوں پر علماء نے غیبت کی اجازت دی ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: یہ بات طے شدہ ہے کہ غیبت ایک سنگین جرم ہے اور حرام ہے۔ اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں غیبت سے منع فرمایا ہے:
﴿ولا يغتب بعضكم بعضاً﴾
اور غیبت کرنے والے کو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والا قرار دیا ہے:
﴿أ يحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتاً فكرهتموه﴾ [الحجرات: ۱۲].

علماء نے لکھا ہے کہ حقوق العباد میں توبہ کی ایک زائد شرط یہ ہے کہ متعلقہ شخص سے معافی مانگی جائے، اس کے بغیر توبہ کی تکمیل نہ ہو گی۔ البتہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے لکھا ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ جب تک اُس شخص کو غیبت کی خبر نہ پہنچے تو حق العبد نہیں ہوتا، لیکن اس صورت میں بھی جس شخص کے سامنے غیبت کی تھی اس کے سامنے اپنی تکذیب کرنا ضروری ہے۔ (بیان القرآن:
۱۱
/
٤۷
، ط: تاج پبلشرز، دہلی)۔
معارف القرآن میں مرقوم ہے: کفارہ غیبت کا یہ ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہے اس کے لیے اللہ تعالی سے دعائے مغفرت کرے اور یوں کہے کہ یا اللہ! ہمارے اور اس کے گناہوں کو معاف فرما۔ (
۷
/
۱۳۳
)۔
(و کذا فی تفسیر المظہری:
۱۱
/
٤۷
،
۵۰
)۔ اسی طرح مظاہر حق جدید میں لکھا ہے۔ (
۵
/
٤۸۰
، باب حفظ اللسان، ط: ادارۂ اسلامیات، دیوبند)۔ علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
إذا تاب المغتاب قبل وصولها تنفعه توبته بلا استحلال من صاحبه

وإن بلغته فلا بد له من الاستحلال والاستغفار. (فتاوى الشامي: ٦/٤۱۰، سعيد، كتاب الكراهية).

علامہ ابن ملک رحمه الله نے شرح تحفۃ الملوک میں نقل کیا ہے کہ متعلقہ شخص کو پہنچنے سے پہلے استغفار کافی ہے کیوں کہ گناہ میں شدت آنے سے پہلے معاف ہو چکا، لیکن غیبت پہنچنے کے بعد کافی نہیں۔
وسئل الإمام أبو محمد عمن إذا مات قبل وصول الغيبة إلى المغتاب فيه هل ينفعه توبته؟ قال: نعم، ينفعه فإنه تاب قبل أن يصير الذنب ذنباً لأنه إنما يصير ذنباً إذا بلغت إليه. (شرح تحفة الملوك: ۲/ ۲۰۹۲).

اس پر محشی صاحب نے اشکال کیا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ محض ارتکابِ غیبت سے گناہ صادر ہو چکا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ غیبت کرنے سے غیبت کا گناہ ہوا، البتہ علماء نے لکھا ہے کہ جب تک اس شخص کو غیبت نہ پہنچے استغفار کافی ہے۔
قال في شرح الطريقة المحمدية: كفارة أثم غيبة من اغتبته أيها المكلف! أن تستغفر له

وهذا إذا لم تبلغه الغيبة. (۲/۲۲٦).

حدیث شریف میں ہے:
وعن أنس رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: كفارة من اغتبته أن تستغفر له. قال العراقي: ابن أبي الدنيا في الصمت، والحارث بن أبي أسامة في مسنده من حديث أنس رضي الله عنه بسند ضعيف. (تخريج العراقي: ۳/۱۵۰/۳۰۲۵).
یعنی غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ اس شخص کے حق میں مغفرت کی دعا کی جائے جس کی غیبت کی گئی ہے۔ گو یہ روایت ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھیے: المقاصد الحسنہ، (رقم:
۸۰٤
)۔
درجِ ذیل چند مواضع میں علماء نے غیبت کی اجازت دی ہے:
۱۔ مجہول ہو، ۲۔ مخاطب نہ پہچانے، ۳۔ مظہر فسق ہو، ٤۔ مشورہ طلب کیا جائے، ۵۔ مسلمانوں کو اس شخص کے دینی یا دنیوی شر سے بچانے کے لیے، ٦۔ ظالم کی شکایت ایسے شخص کے سامنے جو ظلم کو دفع کر سکے، ٦۔ کسی واقعہ کے متعلق فتوی حاصل کرنے کے لیے صورتِ حال بتلانا، ۷۔ مشتری کے سامنے مبیع (غلام، باندی) کے عیب کو ظاہر کرنا، ۸۔ شخصیت کی پہچان کرانا ہو جیسے اعرج، اعور، اعمش، وغیرہ ۹۔ روات پر جرح کرنا، اِن کے علاوہ اور بھی مواضع ہیں، علامہ شامی رحمه الله نے فتاوی شامی (
٦
/
٤۰۹
، سعید) میں تقریباً گیا رہ مواضع کا تذکرہ فرمایا ہے پھر اِن کو اشعار میں بھی بیان کیا ہے۔ علامہ صنعانی رحمه الله نے بھی بلوغ المرام کی شرح سبل السلام میں اِن مواضع کو اشعار میں بیان کیا ہے۔ (سبل السلام:
٤
/
۳۷۰
، و اعانۃ الطالبین:
۳
/
۵۳۵
)۔
مزید ملاحظہ کیجیے: (تفسیر القرطبی:
۱٦
/
۳۳۷
، و احیاء علوم الدین:
۳
/
۱۵۰
، و معارف القرآن)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.