ایک اشکال اور جواب:
Question
اشکال: ابن ماجہ شریف کی روایت میں صرف قتل عمد کو باعثِ محرومی بتایا گیا ہے نہ کہ قتل خطا کو اور فقہ کا مذکورہ مسئلہ اس کے خلاف ہے کہ قتل عمد و خطا دونوں باعثِ محرومی ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث ملاحظہ کیجیے:
حدثنا على بن محمد ومحمد بن يحيى قالا: حدثنا عبيد الله بن موسى عن الحسن بن صالح عن محمد بن سعيد وقال محمد بن يحيى عن عمر بن سعيد عن عمرو بن شعيب حدثني أبي عن جدي عبد الله بن عمرو أن رسول الله ﷺ قام يوم فتح مكة فقال: المرأة ترث من دية زوجها وماله شيئاً، وإن قتل أحدهما صاحبه خطأ ورث من ماله ولم يرث من ديته. (سنن ابن ماجه، ۱۹٦، باب ميراث القاتل).
اس کا کیا جواب ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ابن ماجہ شریف کی مذکورہ بالا روایت انتہائی ضعیف ہے، محمد بن سعید راوی پر محدثین نے بہت کلام کیا ہے، بعض نے متروک اور بعض نے واضع الحدیث کہا ہے، بنا بریں یہ روایت قابل قبول نہیں ہے۔ مصباح الزجاجہ میں علامہ بوصیری رحمه الله لکھتے ہیں:
هذا إسناد ضعيف: محمد بن سعيد هو المصلوب؛ قال أحمد بن حنبل رحمه الله: حديثه موضوع، وقال مرة: عمداً كان يضع الحديث. وقال أبو أحمد الحاكم: كان يضع الحديث صلب على الزندقة. وقال الحاكم أبو عبد الله: هو ساقط لا خلاف بين أئمة النقل فيه. وقال الفلاس: حدث بأحاديث موضوعة. (مصباح الزجاجة: ۲/۳۷٦).
پھر نام میں اختلاف واقع ہوا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام ابن ماجہ رحمه الله نے یہ حدیث اپنے دو شیخ سے نقل کی ہے، ۱۔ علی بن محمد، ۲۔ محمد بن یحیی۔ ان دونوں نے ایک راوی کے نام کے بارے میں اختلاف کیا ہے ایک نے محمد بن سعید اور دوسرے نے عمر بن سعید ذکر کیا ہے۔ لیکن کتبِ اسمائے رجال کی مراجعت سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں اور علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ صحیح محمد بن سعید ہے۔
قال في الكاشف: عمر بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، وعنه الحسن بن صالح، صوابه محمد. (الكاشف: ۲/۷۱).
قال ابن حجر في التهذيب: عمر بن سعيد عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده بحديث: ترث المرأة من دية زوجها. وعنه الحسن بن صالح بن حي مضي، روي عنه كذا وفي أخري محمد بن سعيد ووقع في بعض نسخ ابن ماجه: عمرو وهو خطأ. قلت: رجح الذهبي انه محمد بن سعيد لجلالة الراوي محمد بن يحيى الذهلي. (
تہذیب التہذیب: ۷/۳۸۵) ۔
وينظر أيضاً: (تهذيب الكمال: ۱۲/۳٦۷، وتقريب التهذيب، ص ٤۸۱).
محمد بن سعید راوی بالاتفاق ضعیف ہے، بعض نے متروک اور بعض نے واضع الحدیث کہا ہے۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (تقریب التہذیب، ص
560
، و الجامع فی الجرح و التعدیل:
۳
/
۱٤
)۔
لہذا یہ روایت انتہائی ضعیف ہے، اگر چہ قتل عمد میں میراث سے محرومی بھی ضعیف روایت سے ثابت ہے لیکن کثرتِ طرق کی وجہ سے درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہے، مزید براں اس پر فقہاء کا اجماع اور اتفاق ہے۔ نیز قتل عمد کا مرتکب قتل خطأ کا اقرار کر کے اپنے آپ کو مستحق میراث بنانے کی کوشش کرے گا اس لیے سدِ باب کے طور پر خطأ اور عمد کے فرق کو مٹانا ہی معقول ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.