غیر مسلم کی تحقیق قبول کرنے کا حکم:
Question
کیا فجر صادق کے طلوع یا شفق کے بارے میں غیر مسلموں کی تحقیق کا اعتبار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ وہ مسلمان بھی نہیں ۔
Answer
غیر مسلموں کی تحقیق خالص دین کی باتوں میں قبول نہیں جیسے پانی پاک ہے یا ناپاک ہے یہ کھانا حلال ہے یا حرام ہے، لیکن اگر وہ کوئی ایسی بات بتلا دیں جس پر دینی بات مرتب ہو تو ان کی وہ بات معتبر ہے بشرطیکہ دل اس کی صداقت کی گواہی دے، مثلا یہ کہہ دیں کہ میں نے یہ کھانا فلاں مسلمان سے خریدا ہے تو ظاہر بات ہے کہ مسلمان سے خریدنے کے بعد اس پر حلال ہونے کا حکم مرتب ہوگا ۔
در مختار میں ہے:
ويقبل قول كافر ولو مجوسياً قال: اشتريت اللحم من كتابي فيحل أو قال: اشتريته من مجوسي فيحرم ولا يرده بقول الواحد وأصله أن خبر الكافر مقبول بالإجماع في المعاملات لا في الديانات وعليه يحمل قول الكنز ويقبل قول الكافر في الحل والحرمة يعني الحاصلين في ضمن المعاملات لا مطلق الحل والحرمة. (الدر المختار مع الشامي: ٦/۳٤٤، ۳٤٥، كتاب الحظر والإباحة، سعيد)
طحطاوی میں ہے:
وإذا صح قول الواحد في أخبار المعاملات عدلاً كان أو غير عدل فلا بد في ذلك من تغليب رأيه فيه أن خبره صادق فإن غلب على رأيه ذلك عمل عليه وإلا لا. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۷٤، كتاب الحظر والإباحة، كوئتة)
مذکورہ بالا عبارت سے پتا چلا کہ اگر ان کی تحقیق پر ظنِ غالب ہو کہ صحیح ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا ورنہ نہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا يقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قبوله في الديانات فحينئذٍ تدخل الديانات في ضمن المعاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين، من أرسل أجيراً له مجوسياً أو خادماً فاشترى لحماً فقال: اشتريته من يهودي أو نصراني أو مسلم وسعه أكله وإن كان غير ذلك لم يسعه أن يأكل منه معناه إذا كان ذبيحة غير الكتابي والمسلم لأنه لما قبل قوله في الحل أولى أن يقبل في الحرمة كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ٥/۳۰۸، كتاب الكراهية: الباب الأول في العمل بخبر الواحد)
صورتِ مسئولہ میں بھی غیر مسلم نے صبح صادق اور شفق کے غروب کی بات بتلا دی جو براہِ راست دین کی بات نہیں بلکہ آسمان کے افق کی تحقیق ہے پھر اس پر نماز کا وقت ہونا یا نہ ہونا روزہ کی ابتداء کا ہونا نہ ہونا مرتب ہوگا، لہذا صبح صادق اور شفق کے بارے میں غیر مسلموں کی تحقیق معتبر ہے، نیز یہ تحقیق صرف غیر مسلموں کی نہیں بلکہ مسلمان ماہرِ فلکیات کی تحقیق بھی یہی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.