سجدہ میں عقبین ملانے کے بارے میں روایت کی تحقیق:

7 min readFatwa Vol 2 #78Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۳): صفۃ الصلاۃ کا بیان

Question

نماز میں عقبین کا ملانا سجدہ کی حالت میں بعض احادیث میں وارد ہے مثلا صحیح ابن خزیمہ، بیہقی، طحاوی، وغیرہ میں حدیث موجود ہے
"فوجدته ساجداً راصاً عقبيه"
اس کی کیا حیثیت ہے؟

Answer

یہ حدیث مختلف طرق کے ساتھ مختلف کتب میں مذکور ہے لیکن یہ الفاظ
"فوجدته ساجداً راصاً عقبيه"
صرف یحیی بن ایوب نقل کرتے ہیں اور دوسرے ثقات کی مخالفت کرتے ہیں لہذا یہ زیادتی شاذ ہے ۔ حدیث کی تحقیق ملاحظہ ہو :
یہ حدیث مندرجۂ ذیل کتابوں میں مذکور ہے:

(۱) الإسناد الأول: ابن خزيمة: (٦٥٤) ابن حبان: (۱۹۳۳) شرح مشكل الآثار: (۱/۱۰٤) الحاكم: (۱/۲۲۸) البيهقي في الكبير: (۲/۱۱٦) ابن عبد البر في التمهيد: (۲۳/۳٤۸) وإسناده عند جميعهم من طريق سعيد بن أبي مريم عن يحيى بن أيوب عن عمارة بن غزية عن أبي النضر عن عروة عن عائشة رضي الله تعالى عنها.
سعيد بن أبي مريم
متفرد
يحيى بن أيوب
علل الذهبي أحاديثه.
رد أحمد روايته في الوتر ليس بذلك القوي.
قال أبو حاتم: لا يحتج به وقال النسائي: ليس بالقوي وقال الدارقطني: في حديثه اضطراب.
المستدرك: ۲/۲۰۱۱.
المستدرك: ۳/۹۷. الضعفاء للعقيلي: ۲۱۱.
تنقيح التحقيق: ۲/۱۹۳.
ميزان الاعتدال: ٤/۳٦۳.
ولفظه راصاً عقبيه عند الكل، ويحيى بن أيوب ليس بذلك القوي وخالف الأقوى هنا فشذت روايته.
(۲) الإسناد الثاني: رواه مسلم: (۱/۳٥۲) وأحمد: (٦/۸٥، ۲۰۱) وأبو داود: (۱/٥٤۷) والنسائي: (۱/۱۰۲) وابن عبد البر: (۲۳/۳٤۹) عن:
أبو بكر بن أبي شيبة
ثقة
ميزان الاعتدال: ٤٥٤۹.
أبو أسامة
ثقة
لسان الميزان.
عبيد الله بن عمر
حجة من العدول
بيان مشكل الآثار تحفة الأحوذي: ۳/۲٤۰.
محمد بن يحيى بن حبان
ثقة
التاريخ الكبير.
الأعرج
ثقة
الإكمال.
أبو هريرة رضي الله عنه
الصحابي
ولفظه عند الكل "فوقعت يدي على بطن قدميه".
(۳) الإسناد الثالث: رواه مالك: (۱/۲۱٤) والترمذي: (٥/٤۸۹) والطحاوي: (۳٤۱) والبغوي: (٥/۱٦٦) عن:
يحيى بن سعيد الأنصاري
محمد بن إبراهيم التميمي
عائشة رضي الله تعالى عنها
ثقة
ثقة
ام المؤمنين
ولفظه عند الكل "فوقعت يدي على قدميه"
الخلاصة: الحديث أصله صحيح في صحيح مسلم: (۱/۳٥۲) وأحمد: (٦/۸٥، ۲۰۱) وأبو داود: (۱/٥٤۷) والنسائي: (۱/۱۰۲) وابن عبد البر: (۲۳/۳٤۹) ومالك: (۱/۲۱٤) والترمذي: (٥/٤۸۹) والطحاوي: (۳٤۱) والبغوي: (٥/۱٦٦) وليس عندهم رص العقبين، فهذا شاذ كما ذكر الحاكم. (ملخص من رسالة "لا جديد في أحكام الصلاة").
"يحيي بن أيوب الغافقي"
پر مزید کلام ملاحظہ ہو :

قال أبو زرعة الرازي: واهي الحديث. (سؤلات البرذعي: ٤۳۳).
وقال ابن سعد: منكر الحديث. (طبقات ابن سعد: ۷/٥۱٦).
وذكره العقيلي في الضعفاء (٤/۳۹۱/۲۰۱۱) وقال: حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا ابن على، سمعت ابن أبي مريم قال: حدثت مالكاً بحديث حدثنا به يحيى بن أيوب عنه فسألته عنه، فقال: كذب وحدثته بآخر عنه فقال: كذَبَ

وقال أحمد سيء الحفظ.
وللاستزادة انظر: (تحرير تقريب التهذيب: ٤/۷۸/۷٥۱۰، وتهذيب الكمال مع التعليقات: ۳۱/۲۳٦، ۲۳۸۲۳۷، وكتاب الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: ۳/۱۹۱/۳٦۹٤).

الغرض یحیی بن ایوب مختلف فیہ راوی ہے، بعض حضرات نے کلام کیا ہے اور بعض نے توثیق فرمائی ہے، اگر ہم ضعیف تسلیم کریں علی سبیل التنزل تو یہ روایت منکر ہوگی، ضعیف راوی کے ثقات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے، اور اگر مقبول مان لیں تب بھی اعلی درجہ کے روات کی مخالفت کی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ۔
لیکن اس کو ثقہ کی زیادتی نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ اس حدیث میں یحیی بن ایوب نے دوسرے ثقات کی مخالفت کی ہے، دوسرے راوی
"فوقعت يدي على قدميه"
یا اس کے مترادف الفاظ نقل کرتے ہیں اور یحیی بن ایوب ان الفاظ کی جگہ
"راصاً عقبيه"
نقل کرتے ہیں ۔ اور قاعدہ یہ ہے ثقہ کی زیادتی مقبول ہے مخالفت ہو تو وہ مقبول نہیں ہے، مزید براں یحیی بن ایوب پر کلام بھی ہے ۔

قال ابن الحنبلي في قفو الأثر: وعلى قياس ما سبق: لا تقبل زيادة الضعيف إذا خالفت رواية الثقة. (ص ٦۰).
وقال في قواعد في علوم الحديث: وقد قدمنا أن من اختلف في توثيقه وتضعيفه حسن الحديث أيضاً، فتقبل زيادته لكونه من رواة الحسن،

قلت: هذا مقيد بما إذا لم تكن الزيادة منافية كما هو الظاهر. (قواعد في علوم الحديث، ص ۱۲۲).
وللمزيد من البحث انظر: (شرح شرح النخبة للملا على القاري مع التعليقات، ص: ۳۱٥. ۳۲۰، والتحرير لابن الهمام: 2/۳۷۸، وقف والأثر لابن الحنبلي، مع التعليقات ص: ٦۰. ٦۲، وقواعد في علوم الحديث، ص: ۱۲۳).

اگر بالفرض روایت ثابت بھی ہو تو
"راصاً"
کا مطلب یہ ہے کہ کچھ فاصلہ کے ساتھ برابررکھنا، جیسے حدیث شریف میں
"تراصوا في الصفوف"
کا مطلب صفوف کو برابر کرنا ہے، یہ مطلب نہیں کہ غیر مقلدین کی طرح ٹخنے کو ٹخنے سے ملادیں ۔
المعجم الوسیط میں ہے:

ويقال: تراص القوم: تصافوا وتلاصقوا في القتال أو الصلاة. (ص: ۳٤۸).

اشکال: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نے بکر بن عبد اللہ ابو زید کے رسالہ کے مندرجات سے استدلال کیا جو سلفی ہیں؟
الجواب: جواباً عرض ہے کہ وہ بظاہر حنبلی ہے اور ایسے مسائل میں رسالہ لکھا ہے کہ جن میں بعض سلفی مذاہبِ اربعہ کی مخالفت کرتے ہیں مثلاً اسی مسئلہ میں وہ لکھتے ہیں: "
تَحَصَّل من هذا أنه لا ذكر لجمع العقبين حال السجود في شيء من المذاهب الأربعة". (لا جديد في أحكام الصلاة، ص ٦۹)؛

نیز اس رسالہ میں بعض دوسرے مسائل حسبِ ذیل ہیں:
(۱) نماز میں ٹخنوں کو پڑوسی کے ٹخنوں سے ملانے کی تردید ۔
(۲) بعض سلفی قیام میں حلق کے نیچے ہاتھ رکھتے ہیں اس کی تردید ۔
(۳) سجدہ میں ہاتھوں کو بہت پھیلانے کی تردید ۔
(٤) بعض سلفی جلوس بین السجدتین میں اشارہ بالسبابہ کرتے ہیں اس کی تردید ۔
(۵) بعض لوگ تسبیحات کو صرف دائیں ہاتھ سے شمار کرنے کو مسنون سمجھتے ہیں اس کی تردید ۔
(٦) ایک اور مسئلہ جو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه کی حدیث سے متعلق ہے ۔
نیز ہم نے صرف ان کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا بلکہ حدیث کے راوی یحیی بن ایوب کے متعلق مزید تحقیق کی ہے ۔
بالفرض اگر وہ سلفی ہوں تو یہ مقامِ شکر ہے کہ بکر بن عبد اللہ نے اس مسئلہ میں ہمارے اکابر حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله اور حضرت تھانوی رحمه الله کی نگرانی میں لکھے ہوے فتاوی امداد الاحکام کی موافقت فرمائی ۔ امداد الاحکام کے اکثر فتاوی شیخ الاسلام حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله کی نوک قلم کے مرہونِ منت ہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.