امام کا تکبیرات کے لیے قیام کی طرف لوٹنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #452Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۷): نماز ِ عیدین کا بیان

Question

اگر کوئی اما م عید کی نماز میں دوسری رکعت میں تکبیراتِ زوائد بھول گیا اور لوگوں کے لقمہ دینے پر واپس قیام کی طرف لوٹا تو کیا حکم ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں سابقہ رکوع پر اکتفاء کر لے تو نماز درست ہو گی ۔ لیکن اگر دوسرا رکوع کر لیا تو بھی نماز ہو گئی بلکہ دوسرا رکوع کرنا چاہیے تاکہ نماز کی ترتیب صحیح ہو جائے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

وذكر في كشف الأسرار أن الإمام إذا سها عن التكبيرات حتى ركع فانه يعود إلى القيام بخلاف المسبوق. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۸، صلاة العيدين)

طحطاوی میں ہے:

وإعادة الركوع لا تفسد أيضاً فلو أدركه رجل في الركوع الثاني كان مدركاً لتلك الركعة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲۸۲)

البحر الرائق میں ہے:

فإن عاد إلى القيام وقنت ولم يعد الركوع لم تفسد صلاته لأن ركوعه قائم لم يرتفض. (البحر الرائق: ۲/٤۳، كوئتة)

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر قیام کی طرف لوٹا تب بھی جائز ہے اور نماز فاسد نہ ہو گی یہی صحیح ہے لیکن رکوع کا اعادہ کرے قراءت کا نہ کرے ۔ (عمدۃ الفقہ: کتاب الصلاۃ حصہ دوم: ص ٤٦۵، عیدین کے متفرق مسائل، المجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.