قبر کے گرنے کا خطرہ ہو تو قبر مستحکم کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #519Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اگر قبر کے گرنے کا اندیشہ ہو تو اس کو مستحکم بنانے کے لیے قبر کے ارد گرد اینٹیں وغیرہ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

قبر درمیان میں کچی رہے اور ارد گرد گرنے کے اندیشہ سے اینٹیں رکھ دی جائے تو درست ہے، ورنہ نفسِ قبر کو پختہ بنانے کی ممانعت احادیث سے ثابت ہے لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:

عن جابر رضي الله عنه قال: نهى رسول الله ﷺ أن يجصص القبر وأن يقعد وأن يبني على ه. (رواه مسلم: ۱/۳۱۲. والترمذي: ۱/۲۰۳)

احسن الفتاوی میں ہے:
قبر پر ہر قسم کی بناء بغرضِ زینت حرام ہے اور بغرضِ استحکام مکروہِ تحریمی ہے گناہ میں مکروہِ تحریمی بھی حرام ہی کے برابر ہے چار دیواری خواہ ایک ہی اینٹ کی ہو اس کا بنا ہونا ظاہر ہے اور چبوترا بلکہ اصل مٹی سے زائد مٹی ڈالنا بھی بناء میں داخل ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۸۹)
کفایت المفتی میں ہے:
قبر کو چار طرف سے پختہ بنانا اس طرح کہ میت کے جسم کے محاذ میں نیچے سے اوپر تک کچی رہے مباح ہے یعنی میت کا جسم چاروں طرف سے مٹی کے اندر رہے پر ے پختہ ہو جائے تو حرج نہیں ہے ۔ (کفایت المفتی ٤/۵۰، فصل چہارم قبر و دفن، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.