عورت کے جہیز پر وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:
Question
لڑکی کو جو سامان (برتن وغیرہ) شادی میں دیا جاتا ہے کیا اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ یا د رہے کہ یہ سامان کبھی سالوں تک استعمال میں نہیں آتا اور قیمت ہزاروں روپے سے زائد ہوتی ہے۔
Answer
صورتِ مسئولہ میں سامان وغیرہ پر زکوٰۃ لازم نہیں ہاں قربانی اور صدقۃ الفطر لازم ہوگا۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية أيضاً. (الهداية: ۱/۱۸٦، كتاب الزكاة).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وأما شروط وجوبها فمنها
فراغ المال عن حاجته الأصلية، فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲، كتاب الزكاة).
کفایت المفتی میں ہے:
گھر کے اندر استعمال کا سامان نصابِ زکوٰۃ میں محسوب نہیں ہوتا۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦۳، دار الاشاعت، و فتاوی حقانیہ: ۳/٤۹۵)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.